پی ایس ایل 11 کا آغاز مارچ میں علاقائی کشیدگی اور ایندھن کے بحران کے باعث حکومتی “کفایت شعاری پالیسی” کے تحت ہوا تھا، جس کی وجہ سے تمام میچز کراچی اور لاہور کے خالی اسٹیڈیمز میں کھیلے گئے۔

April 26, 2026

عباس عراقچی نے پاکستان کی جانب سے خطے میں قیامِ امن کے لیے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک قابلِ عمل فریم ورک پیش کر دیا ہے اور اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ سفارت کاری کے حوالے سے کتنا سنجیدہ ہے۔

April 26, 2026

اس اقدام کا مقصد ایران کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے متبادل اور محفوظ روٹس فراہم کرنا ہے، جس سے نہ صرف دوطرفہ تجارت بلکہ علاقائی معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

April 26, 2026

یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ پاکستان کسی ایک فریق یا امریکہ کے دباؤ میں کام کرتا ہے؛ بلکہ پاکستان کی تمام تر کوششیں خالصتاً خطے میں استحکام اور مسلم امہ کے درمیان اتحاد کے فروغ کے لیے رہی ہیں۔

April 26, 2026

انہوں نے تلخ لہجے میں کہا کہ جن لوگوں کو انتظامیہ کا کوئی تجربہ نہیں، انہیں بااختیار بنا دیا گیا ہے، جو کہ نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

April 26, 2026

منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ فلم سٹی میں شوٹنگ کے لیے تمام ضروری سہولتیں، مختلف سیٹس اور ایک مرکزی جھیل بھی تعمیر کی جائے گی۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی تقریبات اور ایوارڈ شوز کے لیے بڑے کنونشن ہالز، میڈیا ٹریڈ ہب اور فنونِ لطیفہ کی تربیت کے لیے فلم و میوزک اسکول بھی اس عظیم الشان منصوبے کا حصہ ہوں گے۔

April 26, 2026

طالبان کے اندرونی خلفشار میں اضافہ؛ تاجک رہنما نے نسلی تعصب کے باعث حکومت کے خاتمے اور اندرونی بغاوت کا انتباہ دے دیا

انہوں نے تلخ لہجے میں کہا کہ جن لوگوں کو انتظامیہ کا کوئی تجربہ نہیں، انہیں بااختیار بنا دیا گیا ہے، جو کہ نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
طالبان کا اندرونی خلفشار

مولوی سعد نے کہا کہ مخصوص دھڑے نظام کو بگاڑ رہے ہیں اور نااہل افراد کو محض مذہبی القابات دے کر اہم عہدوں پر فائز کر دیا گیا ہے۔

April 26, 2026

مزار شریف: طالبان کے اندر بڑھتی ہوئی نسلی تفریق اور شمالی حصوں سے تاجک و ازبک ارکان کی بے دخلی کی رپورٹس کے درمیان صوبہ بلخ میں طالبان کے سینیئر رہنما مولوی عبدالقادر سعد نے اپنی ہی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ گروہ کے اندر بڑھتا ہوا نسلی تعصب اور “اسلامی نظام” کو قبائلی و لسانی مفادات کے لیے استعمال کرنا مستقبل میں سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔

مولوی سعد نے الزام لگایا کہ مخصوص دھڑے نظام کو بگاڑ رہے ہیں اور نااہل افراد کو محض مذہبی القابات دے کر اہم عہدوں پر فائز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے تلخ لہجے میں کہا کہ جن لوگوں کو انتظامیہ کا کوئی تجربہ نہیں، انہیں بااختیار بنا دیا گیا ہے، جو کہ نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

ایک انتہائی سنگین انتباہ دیتے ہوئے مولوی عبدالقادر سعد نے کہا کہ اگر طالبان حکومت کو کسی زوال کا سامنا کرنا پڑا، تو سب سے پہلے ان کے اپنے تاجک ساتھی ہی ان کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ “اگر ہم گرے، تو ہمارے اپنے تاجک ہی ہماری داڑھیوں کو ہاتھ ڈالیں گے اور ہمارے گلے میں پھندہ کھینچیں گے۔”

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ طالبان کے اندرونی خلفشار اور نسلی تعصب کی وجہ سے وہ اپنے ہی لوگوں میں عزت اور مقام کھو رہے ہیں۔ یہ بیان طالبان کے اندر موجود ان گہری دراڑوں کی نشاندہی کرتا ہے جو تاجک اور ازبک ارکان کی مسلسل شکایات اور ان کی صفوں سے بے دخلی کے باعث پیدا ہو رہی ہیں، جس سے شمالی افغانستان میں طالبان کی گرفت کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔

دیکھئیے:پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے مثبت نتائج برآمد ہوئے، سوشل میڈیا اور سفارت کار پاکستان کے متعلق ذمہ دارانہ رویہ اپنائیں: امیر خان متقی

متعلقہ مضامین

پی ایس ایل 11 کا آغاز مارچ میں علاقائی کشیدگی اور ایندھن کے بحران کے باعث حکومتی “کفایت شعاری پالیسی” کے تحت ہوا تھا، جس کی وجہ سے تمام میچز کراچی اور لاہور کے خالی اسٹیڈیمز میں کھیلے گئے۔

April 26, 2026

عباس عراقچی نے پاکستان کی جانب سے خطے میں قیامِ امن کے لیے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک قابلِ عمل فریم ورک پیش کر دیا ہے اور اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ سفارت کاری کے حوالے سے کتنا سنجیدہ ہے۔

April 26, 2026

اس اقدام کا مقصد ایران کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے متبادل اور محفوظ روٹس فراہم کرنا ہے، جس سے نہ صرف دوطرفہ تجارت بلکہ علاقائی معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

April 26, 2026

یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ پاکستان کسی ایک فریق یا امریکہ کے دباؤ میں کام کرتا ہے؛ بلکہ پاکستان کی تمام تر کوششیں خالصتاً خطے میں استحکام اور مسلم امہ کے درمیان اتحاد کے فروغ کے لیے رہی ہیں۔

April 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *