مزار شریف: طالبان کے اندر بڑھتی ہوئی نسلی تفریق اور شمالی حصوں سے تاجک و ازبک ارکان کی بے دخلی کی رپورٹس کے درمیان صوبہ بلخ میں طالبان کے سینیئر رہنما مولوی عبدالقادر سعد نے اپنی ہی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ گروہ کے اندر بڑھتا ہوا نسلی تعصب اور “اسلامی نظام” کو قبائلی و لسانی مفادات کے لیے استعمال کرنا مستقبل میں سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔
مولوی سعد نے الزام لگایا کہ مخصوص دھڑے نظام کو بگاڑ رہے ہیں اور نااہل افراد کو محض مذہبی القابات دے کر اہم عہدوں پر فائز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے تلخ لہجے میں کہا کہ جن لوگوں کو انتظامیہ کا کوئی تجربہ نہیں، انہیں بااختیار بنا دیا گیا ہے، جو کہ نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
Tajik Taliban Senior Member Warns of Rising Ethnic Divisions: “Our Own People Will Turn Against Us”
— Aamaj News English (@aamajnews_EN) April 26, 2026
Amid reports of widespread expulsion of Tajik and Uzbek members from northern and northeastern regions, Mawlawi Abdul Qadir Saad, a Taliban senior member in Balkh Province, has… pic.twitter.com/4pM0veqg0a
ایک انتہائی سنگین انتباہ دیتے ہوئے مولوی عبدالقادر سعد نے کہا کہ اگر طالبان حکومت کو کسی زوال کا سامنا کرنا پڑا، تو سب سے پہلے ان کے اپنے تاجک ساتھی ہی ان کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ “اگر ہم گرے، تو ہمارے اپنے تاجک ہی ہماری داڑھیوں کو ہاتھ ڈالیں گے اور ہمارے گلے میں پھندہ کھینچیں گے۔”
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ طالبان کے اندرونی خلفشار اور نسلی تعصب کی وجہ سے وہ اپنے ہی لوگوں میں عزت اور مقام کھو رہے ہیں۔ یہ بیان طالبان کے اندر موجود ان گہری دراڑوں کی نشاندہی کرتا ہے جو تاجک اور ازبک ارکان کی مسلسل شکایات اور ان کی صفوں سے بے دخلی کے باعث پیدا ہو رہی ہیں، جس سے شمالی افغانستان میں طالبان کی گرفت کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔