لندن: لندن میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر اور معروف مذہبی رہنما حافظ محمد طاہر محمود اشرفی اور ان کی فیملی کے ساتھ پیش آنے والا بدتمیزی اور حملے کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی مخالفت کی آڑ میں ایک مذہبی و قومی رہنما کو بیرونِ ملک ہراساں کرنے کے اس عمل کو اخلاقی دیوالیہ پن اور پاکستان کے مثبت تشخص کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش قرار دیا گیا ہے۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق، لندن میں پی ٹی آئی کے کارکنان نے حافظ طاہر اشرفی اور ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم برطانیہ میں مقیم باشعور پاکستانی نوجوانوں نے بروقت مداخلت کر کے صورتحال کو سنبھالا اور شرپسندوں کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے مختلف مکاتبِ فکر اور اتحاد المدارس العربیہ پاکستان نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلاف ہر کسی کا حق ہے، لیکن کسی کی عزت، خاندان اور سلامتی پر حملہ کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
مذہبی و سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر وطنِ عزیز کے چہرے پر بدنما داغ ہیں جو عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اور عسکری وقار کو ٹھیس پہنچانا چاہتے ہیں۔ فیلڈ مارشل کی قیادت میں ‘معرکہِ حق’ کے بعد پاکستان کو جو عالمی مقام حاصل ہوا ہے، اس وقت پوری قوم کو ملکی ترقی کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ اتحاد المدارس العربیہ نے حافظ طاہر اشرفی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ہر قومی و ملکی مفاد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
پاکستانی قوم نے ایسے غیر ذمہ دارانہ رویوں کو مسترد کرتے ہوئے امن، برداشت اور احترام کے اصولوں پر قائم رہنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے اپنے ہی ملک کے رہنماؤں کے خلاف اس طرح کا رویہ قومی وقار کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔