نیشنل پریس کلب کے اراکین نے صدر اور انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مطیع اللہ جان کی جانب سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے پر ان کی کلب کی رکنیت فی الفور منسوخ کی جائے اور انہیں پریس کلب سے بے دخل کیا جائے۔

April 26, 2026

اس واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے مختلف مکاتبِ فکر اور اتحاد المدارس العربیہ پاکستان نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلاف ہر کسی کا حق ہے، لیکن کسی کی عزت، خاندان اور سلامتی پر حملہ کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

April 26, 2026

مہم کے پیغامات میں عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔

April 26, 2026

پی ایس ایل 11 کا آغاز مارچ میں علاقائی کشیدگی اور ایندھن کے بحران کے باعث حکومتی “کفایت شعاری پالیسی” کے تحت ہوا تھا، جس کی وجہ سے تمام میچز کراچی اور لاہور کے خالی اسٹیڈیمز میں کھیلے گئے۔

April 26, 2026

عباس عراقچی نے پاکستان کی جانب سے خطے میں قیامِ امن کے لیے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک قابلِ عمل فریم ورک پیش کر دیا ہے اور اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ سفارت کاری کے حوالے سے کتنا سنجیدہ ہے۔

April 26, 2026

اس اقدام کا مقصد ایران کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے متبادل اور محفوظ روٹس فراہم کرنا ہے، جس سے نہ صرف دوطرفہ تجارت بلکہ علاقائی معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

April 26, 2026

پی ٹی آئی کارکنان کا حافظ طاہر اشرفی اور اہل خانہ پر حملہ و بدتمیزی؛ قومی و مذہبی حلقوں کی جانب سے اخلاقی دیوالیہ پن کی شدید مذمت

اس واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے مختلف مکاتبِ فکر اور اتحاد المدارس العربیہ پاکستان نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلاف ہر کسی کا حق ہے، لیکن کسی کی عزت، خاندان اور سلامتی پر حملہ کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
طاہر اشرفی پر حملہ

لندن میں پی ٹی آئی کے کارکنان نے حافظ طاہر اشرفی اور ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم برطانیہ میں مقیم باشعور پاکستانی نوجوانوں نے بروقت مداخلت کر کے صورتحال کو سنبھالا اور شرپسندوں کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔

April 26, 2026

لندن: لندن میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر اور معروف مذہبی رہنما حافظ محمد طاہر محمود اشرفی اور ان کی فیملی کے ساتھ پیش آنے والا بدتمیزی اور حملے کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی مخالفت کی آڑ میں ایک مذہبی و قومی رہنما کو بیرونِ ملک ہراساں کرنے کے اس عمل کو اخلاقی دیوالیہ پن اور پاکستان کے مثبت تشخص کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش قرار دیا گیا ہے۔

واقعے کی تفصیلات کے مطابق، لندن میں پی ٹی آئی کے کارکنان نے حافظ طاہر اشرفی اور ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم برطانیہ میں مقیم باشعور پاکستانی نوجوانوں نے بروقت مداخلت کر کے صورتحال کو سنبھالا اور شرپسندوں کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے مختلف مکاتبِ فکر اور اتحاد المدارس العربیہ پاکستان نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلاف ہر کسی کا حق ہے، لیکن کسی کی عزت، خاندان اور سلامتی پر حملہ کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

مذہبی و سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر وطنِ عزیز کے چہرے پر بدنما داغ ہیں جو عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اور عسکری وقار کو ٹھیس پہنچانا چاہتے ہیں۔ فیلڈ مارشل کی قیادت میں ‘معرکہِ حق’ کے بعد پاکستان کو جو عالمی مقام حاصل ہوا ہے، اس وقت پوری قوم کو ملکی ترقی کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ اتحاد المدارس العربیہ نے حافظ طاہر اشرفی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ہر قومی و ملکی مفاد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

پاکستانی قوم نے ایسے غیر ذمہ دارانہ رویوں کو مسترد کرتے ہوئے امن، برداشت اور احترام کے اصولوں پر قائم رہنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے اپنے ہی ملک کے رہنماؤں کے خلاف اس طرح کا رویہ قومی وقار کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

دیکھئیے:ٹی ٹی پی کے پروپیگنڈہ سیل کا گھناؤنا کھیل: افغانستان سے چلنے والے جعلی پلیٹ فارم کے ذریعے صدرِ مملکت کے خلاف جھوٹی خبر پھیلائے جانے کا انکشاف

متعلقہ مضامین

نیشنل پریس کلب کے اراکین نے صدر اور انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مطیع اللہ جان کی جانب سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے پر ان کی کلب کی رکنیت فی الفور منسوخ کی جائے اور انہیں پریس کلب سے بے دخل کیا جائے۔

April 26, 2026

مہم کے پیغامات میں عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔

April 26, 2026

پی ایس ایل 11 کا آغاز مارچ میں علاقائی کشیدگی اور ایندھن کے بحران کے باعث حکومتی “کفایت شعاری پالیسی” کے تحت ہوا تھا، جس کی وجہ سے تمام میچز کراچی اور لاہور کے خالی اسٹیڈیمز میں کھیلے گئے۔

April 26, 2026

عباس عراقچی نے پاکستان کی جانب سے خطے میں قیامِ امن کے لیے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک قابلِ عمل فریم ورک پیش کر دیا ہے اور اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ سفارت کاری کے حوالے سے کتنا سنجیدہ ہے۔

April 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *