مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

باجوڑ آپریشن میں ہلاک ٹی ٹی پی دہشت گرد سابق افغان نائب وزیر کا بھتیجا نکلا

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے ٹی ٹی پی کے افغان دہشت گرد عزت اللہ کی شناخت ہو گئی؛ ہلاک دہشت گرد افغان طالبان کے سابق نائب وزیر مولانا محمد صدیق کا بھتیجا نکلا۔
باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے ٹی ٹی پی کے افغان دہشت گرد عزت اللہ کی شناخت ہو گئی؛ ہلاک دہشت گرد افغان طالبان کے سابق نائب وزیر مولانا محمد صدیق کا بھتیجا نکلا۔

باجوڑ آپریشن میں ہلاک افغان دہشت گرد عزت اللہ کے خاندانی پس منظر کا انکشاف؛ ٹی ٹی پی کارندے کا افغان طالبان کے سابق نائب وزیر اور صوبہ لوگر کے بااثر خاندان سے قریبی تعلق سامنے آگیا۔

April 27, 2026

خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کے ایک حالیہ آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے فتنہ الخوارج کے دہشت گرد عزت اللہ کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ہلاک ہونے والا افغان دہشت گرد نہ صرف ٹی ٹی پی کا اہم کارندہ تھا بلکہ اس کا تعلق افغانستان کے ایک بااثر مذہبی اور سیاسی خاندان سے بھی تھا۔

خاندانی پس منظر اور افغان طالبان سے تعلق

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ‘محاذ’ اکاؤنٹ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ہلاک دہشت گرد عزت اللہ، شیخ الحدیث مولانا محمد صدیق کا بھتیجا تھا۔ مولانا محمد صدیق افغان طالبان کے سابقہ دورِ حکومت میں ‘شہداء کے نائب وزیر’ جیسی اہم ذمہ داری پر فائز رہے ہیں اور بعد ازاں صوبہ لوگر میں ہائر ایجوکیشن کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں۔ مولانا صدیق اخوندزادہ کا انتقال حال ہی میں 11 مارچ 2026 کو ہوا تھا۔

دہشت گردوں گٹھ جوڑ

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ عزت اللہ کے والد شیخ القرآن والحدیث مولانا محمد صادق اخوندزادہ، تاحال صوبہ لوگر میں ایک ممتاز مذہبی عالمِ دین کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ایک اہم مذہبی خاندان سے تعلق رکھنے والے افغان شہری کا پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونا ان الزامات کو تقویت دیتا ہے کہ ٹی ٹی پی کو پڑوسی ملک میں بااثر حلقوں کی پشت پناہی حا

سکیورٹی ماہرین کا تجزیہ

دفاعی ماہرین اس واقعے کو پاکستان کے خلاف جاری ‘پراکسی وار’ کا واضح ثبوت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ افغان سرزمین سے تعلق رکھنے والے اور سابق افغان حکومتی عہدیداروں کے قریبی رشتہ داروں کا باجوڑ جیسے علاقوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں مارا جانا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ دہشت گرد عناصر کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں اور افرادی قوت میسر ہے۔

متعلقہ مضامین

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *