خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کے ایک حالیہ آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے فتنہ الخوارج کے دہشت گرد عزت اللہ کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ہلاک ہونے والا افغان دہشت گرد نہ صرف ٹی ٹی پی کا اہم کارندہ تھا بلکہ اس کا تعلق افغانستان کے ایک بااثر مذہبی اور سیاسی خاندان سے بھی تھا۔
خاندانی پس منظر اور افغان طالبان سے تعلق
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ‘محاذ’ اکاؤنٹ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ہلاک دہشت گرد عزت اللہ، شیخ الحدیث مولانا محمد صدیق کا بھتیجا تھا۔ مولانا محمد صدیق افغان طالبان کے سابقہ دورِ حکومت میں ‘شہداء کے نائب وزیر’ جیسی اہم ذمہ داری پر فائز رہے ہیں اور بعد ازاں صوبہ لوگر میں ہائر ایجوکیشن کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں۔ مولانا صدیق اخوندزادہ کا انتقال حال ہی میں 11 مارچ 2026 کو ہوا تھا۔
Breaking: Izzatullah, The TTP-linked Afghan militant killed in a security forces operation in Bajaur, was the nephew of Sheikh-ul-Quran wal-Hadith Mulana Mohammad Seddiq. Mulana Seddiq served as Deputy Minister of Martyrs during the previous Taliban government and later as… https://t.co/CZztKCeRB6 pic.twitter.com/uPnQb1qnA3
— Mahaz (@MahazOfficial1) April 27, 2026
دہشت گردوں گٹھ جوڑ
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ عزت اللہ کے والد شیخ القرآن والحدیث مولانا محمد صادق اخوندزادہ، تاحال صوبہ لوگر میں ایک ممتاز مذہبی عالمِ دین کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ایک اہم مذہبی خاندان سے تعلق رکھنے والے افغان شہری کا پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونا ان الزامات کو تقویت دیتا ہے کہ ٹی ٹی پی کو پڑوسی ملک میں بااثر حلقوں کی پشت پناہی حا
سکیورٹی ماہرین کا تجزیہ
دفاعی ماہرین اس واقعے کو پاکستان کے خلاف جاری ‘پراکسی وار’ کا واضح ثبوت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ افغان سرزمین سے تعلق رکھنے والے اور سابق افغان حکومتی عہدیداروں کے قریبی رشتہ داروں کا باجوڑ جیسے علاقوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں مارا جانا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ دہشت گرد عناصر کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں اور افرادی قوت میسر ہے۔