کنڑ یونیورسٹی پر پاکستانی فضائیہ کے حملے کے دعوے من گھڑت نکلے؛ افغان اور بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان مخالف منظم پراپیگنڈا مہم بے نقاب کر دی گئی۔

April 27, 2026

افغانستان میں مبینہ فضائی حملوں کے بعد چمن بارڈر پر پاک افغان افواج کے درمیان مسلح جھڑپیں شروع ہو گئیں، جس سے سرحدی علاقوں میں صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔

April 27, 2026

صدر آصف علی زرداری کے دورہ چین کے دوران کراچی میں پانی کی فراہمی اور زرعی شعبے میں جدت لانے کے لیے پاکستان اور چین کے مابین 3 اہم معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے۔

April 27, 2026

جنوبی وزیرستان میں پاک فوج نے افغان اشتعال انگیزی اور خوارج کی دراندازی کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے متعدد افغان پوسٹیں تباہ کر دیں۔

April 27, 2026

پاک فوج اور متعلقہ اداروں کی محنت رنگ لائی؛ پارہ چنار ایئرپورٹ پر آرمی ایوی ایشن کے کامیاب ٹرائلز کے بعد اسے باقاعدہ فعال کر دیا گیا ہے۔

April 27, 2026

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے ٹی ٹی پی کے افغان دہشت گرد عزت اللہ کی شناخت ہو گئی؛ ہلاک دہشت گرد افغان طالبان کے سابق نائب وزیر مولانا محمد صدیق کا بھتیجا نکلا۔

April 27, 2026

باجوڑ آپریشن میں ہلاک ٹی ٹی پی دہشت گرد سابق افغان نائب وزیر کا بھتیجا نکلا

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے ٹی ٹی پی کے افغان دہشت گرد عزت اللہ کی شناخت ہو گئی؛ ہلاک دہشت گرد افغان طالبان کے سابق نائب وزیر مولانا محمد صدیق کا بھتیجا نکلا۔
باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے ٹی ٹی پی کے افغان دہشت گرد عزت اللہ کی شناخت ہو گئی؛ ہلاک دہشت گرد افغان طالبان کے سابق نائب وزیر مولانا محمد صدیق کا بھتیجا نکلا۔

باجوڑ آپریشن میں ہلاک افغان دہشت گرد عزت اللہ کے خاندانی پس منظر کا انکشاف؛ ٹی ٹی پی کارندے کا افغان طالبان کے سابق نائب وزیر اور صوبہ لوگر کے بااثر خاندان سے قریبی تعلق سامنے آگیا۔

April 27, 2026

خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کے ایک حالیہ آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے فتنہ الخوارج کے دہشت گرد عزت اللہ کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ہلاک ہونے والا افغان دہشت گرد نہ صرف ٹی ٹی پی کا اہم کارندہ تھا بلکہ اس کا تعلق افغانستان کے ایک بااثر مذہبی اور سیاسی خاندان سے بھی تھا۔

خاندانی پس منظر اور افغان طالبان سے تعلق

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ‘محاذ’ اکاؤنٹ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ہلاک دہشت گرد عزت اللہ، شیخ الحدیث مولانا محمد صدیق کا بھتیجا تھا۔ مولانا محمد صدیق افغان طالبان کے سابقہ دورِ حکومت میں ‘شہداء کے نائب وزیر’ جیسی اہم ذمہ داری پر فائز رہے ہیں اور بعد ازاں صوبہ لوگر میں ہائر ایجوکیشن کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں۔ مولانا صدیق اخوندزادہ کا انتقال حال ہی میں 11 مارچ 2026 کو ہوا تھا۔

دہشت گردوں گٹھ جوڑ

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ عزت اللہ کے والد شیخ القرآن والحدیث مولانا محمد صادق اخوندزادہ، تاحال صوبہ لوگر میں ایک ممتاز مذہبی عالمِ دین کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ایک اہم مذہبی خاندان سے تعلق رکھنے والے افغان شہری کا پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونا ان الزامات کو تقویت دیتا ہے کہ ٹی ٹی پی کو پڑوسی ملک میں بااثر حلقوں کی پشت پناہی حا

سکیورٹی ماہرین کا تجزیہ

دفاعی ماہرین اس واقعے کو پاکستان کے خلاف جاری ‘پراکسی وار’ کا واضح ثبوت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ افغان سرزمین سے تعلق رکھنے والے اور سابق افغان حکومتی عہدیداروں کے قریبی رشتہ داروں کا باجوڑ جیسے علاقوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں مارا جانا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ دہشت گرد عناصر کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں اور افرادی قوت میسر ہے۔

متعلقہ مضامین

کنڑ یونیورسٹی پر پاکستانی فضائیہ کے حملے کے دعوے من گھڑت نکلے؛ افغان اور بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان مخالف منظم پراپیگنڈا مہم بے نقاب کر دی گئی۔

April 27, 2026

افغانستان میں مبینہ فضائی حملوں کے بعد چمن بارڈر پر پاک افغان افواج کے درمیان مسلح جھڑپیں شروع ہو گئیں، جس سے سرحدی علاقوں میں صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔

April 27, 2026

صدر آصف علی زرداری کے دورہ چین کے دوران کراچی میں پانی کی فراہمی اور زرعی شعبے میں جدت لانے کے لیے پاکستان اور چین کے مابین 3 اہم معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے۔

April 27, 2026

جنوبی وزیرستان میں پاک فوج نے افغان اشتعال انگیزی اور خوارج کی دراندازی کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے متعدد افغان پوسٹیں تباہ کر دیں۔

April 27, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *