پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق چمن کے مقام پر پاکستانی سرحدی محافظوں اور افغان طالبان کے درمیان مسلح جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔
مقامی ذرائع اور غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کے مختلف علاقوں میں متعدد زور دار دھماکے سنے گئے ہیں۔ بعض غیر سرکاری ذرائع ان دھماکوں کو پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کی فضائی کاروائی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اگرچہ تاحال دونوں ممالک کی جانب سے ان حملوں کی باقاعدہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، تاہم ان واقعات نے سرحدی علاقوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔
چمن بارڈر پر مسلح تصادم
ان واقعات کے فوری بعد چمن کے سرحدی مقام پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحدی کشیدگی کے باعث آمد و رفت معطل ہو چکی ہے اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور سرحدی چوکیوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
پس منظر اور اثرات
پاک افغان سرحد پر حالیہ چند ماہ سے حالات سازگار نہیں رہے، تاہم فضائی حملوں کی اطلاعات اور براہِ راست جھڑپوں نے سفارتی اور دفاعی حلقوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ان جھڑپوں کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو اس کے اثرات علاقائی امن و امان پر مرتب ہو سکتے ہیں۔