اسلام آباد/کابل: پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تنازعات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق متعدد مقامات پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مسلح جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ لڑائی کے تازہ ترین واقعات خاص طور پر کنڑ-باجوڑ اور اسپن بولدک-چمن کے سرحدی علاقوں میں پیش آ رہے ہیں، جہاں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں سرحدی علاقوں میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے اور مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
The border clashes have reportedly resumed between Pakistani and Afghan forces. The main areas of fighting are Kunar–Bajaur and Spin Boldak–Chaman border regions. However, both sides claiming heavy casualties & accusing each other of initiating the border clashes. pic.twitter.com/uat2cDsi0O
— Jawad Yousafzai (@JawadYousufxai) April 27, 2026
سفارتی اور عسکری ذرائع کے مطابق، دونوں جانب سے ایک دوسرے پر اشتعال انگیزی اور فائرنگ میں پہل کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی فورسز نے ان کی سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا، جبکہ پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ افغان حدود سے بلا اشتعال فائرنگ اور شہری آبادیوں پر مارٹر گولوں کے حملوں کے بعد بھرپور جوابی کارروائی کی گئی۔ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کی فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچانے کے دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں، تاہم آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کی اصل تعداد کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی ہے۔
ماہرینِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ اسپن بولدک اور باجوڑ جیسے حساس مقامات پر بار بار ہونے والی یہ جھڑپیں خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ ان واقعات سے نہ صرف دوطرفہ سفارتی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں بلکہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور عام شہریوں کی نقل و حمل میں بھی شدید رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ بین الاقوامی برادری اور علاقائی مبصرین نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری طور پر مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔