اگر شارجہ کی بیزاری اسی طرح برقرار رہی تو وہ خطے کی دیگر بڑی طاقتوں، جیسے سعودی عرب اور پاکستان کی جانب دیکھ سکتا ہے۔

April 28, 2026

ان ماہرین کی تربیت اور تکنیکی مہارت پر بھاری سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ افغان انٹیلی جنس ادارے اب ان افراد کے ٹھکانوں کا سراغ لگانے کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مار رہے ہیں۔

April 28, 2026

رایان حبیب نے جھیل ووڈ لینڈز کے 24 ڈگری سینٹی گریڈ ٹھنڈے پانی میں 3.8 کلومیٹر تیراکی کا پہلا مرحلہ 1 گھنٹہ 45 منٹ میں مکمل کیا۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں انہوں نے ہارڈی ٹول روڈ پر 180 کلومیٹر سائیکلنگ کا کٹھن سفر 7 گھنٹے 27 منٹ میں طے کیا

April 28, 2026

دنانیر کا کہنا تھا کہ آن لائن تنقید نوجوان خواتین کے لیے ذہنی طور پر انتہائی مشکل ثابت ہوتی ہے، اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے ساتھ نرمی اور ہمدردی کا رویہ اختیار کریں۔

April 28, 2026

صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر سروسز چیفس نے اس کامیابی پر ٹیم کی تکنیکی مہارت اور لگن کو سراہا ہے۔

April 28, 2026

حالیہ دنوں میں باجوڑ، جنوبی وزیرستان اور چمن کے شہری علاقوں کو افغان حدود سے مارٹر گولوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس سے نہ صرف مکانات کو نقصان پہنچا بلکہ عام شہری بھی اس کی زد میں آئے۔

April 28, 2026

پاکستان مخالف مہم میں تیزی: زلمے خلیل زاد کے کنڑ یونیورسٹی حملے سے متعلق الزامات مسترد، بے بنیاد پراپیگنڈا قرار

زلمے خلیل زاد کے پاکستان پر کنڑ یونیورسٹی حملے کے الزامات کو سکیورٹی ماہرین نے ان کی ذاتی سفارتی ناکامیوں کا شاخسانہ اور بے بنیاد پراپیگنڈا قرار دے کر مسترد کر دیا۔
زلمے خلیل زاد کے پاکستان پر کنڑ یونیورسٹی حملے کے الزامات کو سکیورٹی ماہرین نے ان کی ذاتی سفارتی ناکامیوں کا شاخسانہ اور بے بنیاد پراپیگنڈا قرار دے کر مسترد کر دیا۔

زلمے خلیل زاد کے پاکستان پر کنڑ یونیورسٹی حملے کے بے بنیاد الزامات کا جائزہ، جسے ماہرین نے ایک ناکام سفارت کار کی جانب سے اپنی ماضی کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

April 28, 2026

افغانستان کے لیے سابق امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیلزاد کی جانب سے پاکستان پر کنڑ یونیورسٹی حملے کے حوالے سے عائد کیے گئے الزامات کو دفاعی ماہرین نے حقائق کے منافی اور محض ایک مخصوص ایجنڈے کا حصہ قرار دیا ہے۔ زلمے خلیلزاد نے اپنے حالیہ بیان میں کسی بھی شواہد و ثبوت کے بغیر یہ دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے کنڑ میں یونیورسٹی پر حملہ کیا، جبکہ پاکستان ان رپورٹس کو پہلے ہی مکمل طور پر مسترد کر چکا ہے۔

گمراہ کن بیانیہ

سیاسی مبصرین کے مطابق زلمے خلیل زاد کی یہ روش ان کی “ناکامیوں کی داستان” کا ایک نیا باب ہے جہاں وہ زمینی شواہد کے بجائے غیر مصدقہ ‘رپورٹس’ کو حتمی فیصلہ ماننے کی پرانی عادت پر گامزن ہیں۔ ماہرین نے خلیل زاد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بھارتی پراپیگنڈا ماڈل کی تقلید کرتے ہوئے چند گھنٹوں میں پاکستان کو مجرم قرار دینے کے بجائے حقائق، اعداد و شمار اور مستند بین الاقوامی ذرائع پر توجہ دیں، کیونکہ بغیر ثبوت کے الزامات عائد کرنا کسی بھی طور ذمہ دارانہ سفارت کاری نہیں۔

متنازع سفارتی ریکارڈ

تجزیہ کاروں نے زلمے خلیلزاد کے اپنے سفارتی کیریئر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات سے لے کر ان کے کابل میں اقتدار تک پہنچنے تک، خلیلزاد کا اپنا ریکارڈ ان کے ٹوئٹس سے کہیں زیادہ واضح ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ افغانستان میں ان کی اپنی سفارتی حکمتِ عملی بری طرح ناکام ہوئی، جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عدم استحکام کی بھاری قیمت پاکستان آج تک دہشت گردی اور معاشی دباؤ کی صورت میں ادا کر رہا ہے۔

امن دشمن بیانیہ

ماہرین کے مطابق وہ شخص جو خود افغانستان میں استحکام قائم کرنے میں ناکام رہا، اب دوسروں کو امن اور ذمہ داری کا درس دے رہا ہے جو کہ حیران کن ہے۔ خلیلزاد کی جانب سے پاکستان کو نشانہ بنانا دراصل اپنی ماضی کی سفارتی ناکامیوں سے عالمی توجہ ہٹانے کی ایک جرات مندانہ مگر ناکام کوشش ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر امن کے لیے ایک سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے اور ایسے بے بنیاد الزامات اس کی ساکھ کو متاثر نہیں کر سکتے۔

حتمی اتھارٹی کا بھرم

سکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب کسی شخص کا اپنا ریکارڈ ہی غیر مستحکم اور متنازع ہو، تو اسے خود کو کسی بھی علاقائی معاملے میں حتمی اتھارٹی کے طور پر پیش کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ زلمے خلیلزاد کے یہ بیانات زمینی حقائق کے بجائے ان کی ذاتی پسند و ناپسند پر مبنی ہیں، جن کا مقصد خطے میں جاری امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا معلوم ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

اگر شارجہ کی بیزاری اسی طرح برقرار رہی تو وہ خطے کی دیگر بڑی طاقتوں، جیسے سعودی عرب اور پاکستان کی جانب دیکھ سکتا ہے۔

April 28, 2026

ان ماہرین کی تربیت اور تکنیکی مہارت پر بھاری سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ افغان انٹیلی جنس ادارے اب ان افراد کے ٹھکانوں کا سراغ لگانے کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مار رہے ہیں۔

April 28, 2026

رایان حبیب نے جھیل ووڈ لینڈز کے 24 ڈگری سینٹی گریڈ ٹھنڈے پانی میں 3.8 کلومیٹر تیراکی کا پہلا مرحلہ 1 گھنٹہ 45 منٹ میں مکمل کیا۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں انہوں نے ہارڈی ٹول روڈ پر 180 کلومیٹر سائیکلنگ کا کٹھن سفر 7 گھنٹے 27 منٹ میں طے کیا

April 28, 2026

دنانیر کا کہنا تھا کہ آن لائن تنقید نوجوان خواتین کے لیے ذہنی طور پر انتہائی مشکل ثابت ہوتی ہے، اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے ساتھ نرمی اور ہمدردی کا رویہ اختیار کریں۔

April 28, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *