افغانستان کے لیے سابق امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیلزاد کی جانب سے پاکستان پر کنڑ یونیورسٹی حملے کے حوالے سے عائد کیے گئے الزامات کو دفاعی ماہرین نے حقائق کے منافی اور محض ایک مخصوص ایجنڈے کا حصہ قرار دیا ہے۔ زلمے خلیلزاد نے اپنے حالیہ بیان میں کسی بھی شواہد و ثبوت کے بغیر یہ دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے کنڑ میں یونیورسٹی پر حملہ کیا، جبکہ پاکستان ان رپورٹس کو پہلے ہی مکمل طور پر مسترد کر چکا ہے۔
گمراہ کن بیانیہ
سیاسی مبصرین کے مطابق زلمے خلیل زاد کی یہ روش ان کی “ناکامیوں کی داستان” کا ایک نیا باب ہے جہاں وہ زمینی شواہد کے بجائے غیر مصدقہ ‘رپورٹس’ کو حتمی فیصلہ ماننے کی پرانی عادت پر گامزن ہیں۔ ماہرین نے خلیل زاد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بھارتی پراپیگنڈا ماڈل کی تقلید کرتے ہوئے چند گھنٹوں میں پاکستان کو مجرم قرار دینے کے بجائے حقائق، اعداد و شمار اور مستند بین الاقوامی ذرائع پر توجہ دیں، کیونکہ بغیر ثبوت کے الزامات عائد کرنا کسی بھی طور ذمہ دارانہ سفارت کاری نہیں۔
There are reports that #Pakistan has attacked Kunar University in #Afghanistan, killing 4 and injuring 70. Pakistan has denied the reports. Unfortunately, Pakistan's denials have repeatedly proven to not be credible. Just a few weeksI ago, it attacked a hospital, killing around…
— Zalmay Khalilzad (@realZalmayMK) April 27, 2026
متنازع سفارتی ریکارڈ
تجزیہ کاروں نے زلمے خلیلزاد کے اپنے سفارتی کیریئر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات سے لے کر ان کے کابل میں اقتدار تک پہنچنے تک، خلیلزاد کا اپنا ریکارڈ ان کے ٹوئٹس سے کہیں زیادہ واضح ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ افغانستان میں ان کی اپنی سفارتی حکمتِ عملی بری طرح ناکام ہوئی، جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عدم استحکام کی بھاری قیمت پاکستان آج تک دہشت گردی اور معاشی دباؤ کی صورت میں ادا کر رہا ہے۔
امن دشمن بیانیہ
ماہرین کے مطابق وہ شخص جو خود افغانستان میں استحکام قائم کرنے میں ناکام رہا، اب دوسروں کو امن اور ذمہ داری کا درس دے رہا ہے جو کہ حیران کن ہے۔ خلیلزاد کی جانب سے پاکستان کو نشانہ بنانا دراصل اپنی ماضی کی سفارتی ناکامیوں سے عالمی توجہ ہٹانے کی ایک جرات مندانہ مگر ناکام کوشش ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر امن کے لیے ایک سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے اور ایسے بے بنیاد الزامات اس کی ساکھ کو متاثر نہیں کر سکتے۔
حتمی اتھارٹی کا بھرم
سکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب کسی شخص کا اپنا ریکارڈ ہی غیر مستحکم اور متنازع ہو، تو اسے خود کو کسی بھی علاقائی معاملے میں حتمی اتھارٹی کے طور پر پیش کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ زلمے خلیلزاد کے یہ بیانات زمینی حقائق کے بجائے ان کی ذاتی پسند و ناپسند پر مبنی ہیں، جن کا مقصد خطے میں جاری امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا معلوم ہوتا ہے۔