پاکستان میں جاری ‘آپریشن غضب للحق’ کے حوالے سے یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ یہ آپریشن صرف تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) تک محدود نہیں ہے، بلکہ ان تمام عناصر کے خلاف ہے جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے اہداف میں شروع ہی سے بلوچستان لبریشن آرمی، داعش خراسان اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ جیسے گروہ شامل رہے ہیں۔
بی ایل اے کے خلاف نیا مرحلہ
حالیہ دنوں میں بی ایل اے کے خلاف کاروائیوں میں آنے والی تیزی دراصل آپریشن غضب للحق کا ایک نیا مرحلہ ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ جنگ کے مختلف مراحل اور اس کی چال سے ناواقف ہیں، وہ اکثر ان اقدامات کو ‘نیا محاذ’ یا ‘نئی حکمتِ عملی’ کا نام دے کر مصالحہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کاروائیاں اسی منظم فوجی آپریشن کا تسلسل ہیں جو ملک دشمن عناصر کے مکمل خاتمے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
Emerging Signals of a New Front
— BILAL SARWARY (@bsarwary) April 27, 2026
There are growing indications that elements within GHQ Rawalpindi and (ISI) is opening a new front against the Balochistan Liberation Army (BLA), with signs that this approach could extend into Afghan territory and will intersect with dynamics…
غیر مصدقہ پراکسی دعوے
بعض سوشل میڈیا حلقوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے ‘شباب الخراسان’ جیسے مبینہ پراکسی ڈھانچوں اور سابق افغان اہلکاروں کے استعمال کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی ماہرین ان دعوؤں کو زمینی حقائق کی غلط تشریح قرار دیتے ہیں۔ نوشکی جیسے علاقوں میں ہونے والی جھڑپیں اور وہاں غیر ملکی عناصر کی ہلاکت دراصل ان دہشت گرد گروہوں کے آپسی گٹھ جوڑ اور سرحد پار سے ان کی نقل و حرکت کا نتیجہ ہے، جسے غلط رنگ دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔
بلاامتیاز کاروائی کا عزم
پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ آپریشن غضب الحق ان تمام گروہوں کے خلاف ہے جو بھارت یا دیگر دشمن قوتوں کے ایما پر پاکستان کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ڈیوڑنڈ لائن کے دونوں جانب ابھرتی ہوئی صورتحال کسی ‘نئے محاذ’ کی نشاندہی نہیں بلکہ ان دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ ہونے کی علامت ہے جو اسلام آباد کی سلامتی کی صف بندی سے باہر ہیں۔ پاکستان اپنی خودمختار حدود میں ان تمام عناصر کے خلاف بلاامتیاز کاروائی جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔