خیبر کے علاقے آکاخیل، باڑہ میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ایک درست نشانہ بندی کاروائی کی، جس کا مقصد ایک مصدقہ دہشت گرد کی موجودگی کو ختم کرنا تھا۔ اطلاعات کے مطابق مذکورہ دہشت گرد ایک مقامی شہری کاشف کے حجرے میں پناہ لیے ہوئے تھا، جہاں اسے نشانہ بنانے کے لیے دو مراحل پر مشتمل فضائی کارروائی کی گئی۔
شہری نقصان اور خوارجی طرزِ عمل
گنجان آباد علاقوں میں ہونے والی اس کاروائی کے نتیجے میں بدقسمتی سے 7 شہری متاثر ہوئے، جن میں سے ایک جاں بحق اور 6 زخمی ہو گئے، جبکہ دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے دانستہ طور پر شہری ڈھانچوں، جیسے حجروں اور رہائشی کمپاؤنڈز کا استعمال ایک مخصوص ‘خوارجی طرزِ عمل’ ہے، جس کا مقصد شہری اور جنگجو کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے تاکہ کسی بھی کارروائی کی صورت میں عام آبادی کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
اطلاعاتی حرکیات اور بیانیہ سازی
واقعے کے فوراً بعد حیات آباد ٹول پلازہ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں 500 سے 600 افراد نے شرکت کی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایسے واقعات کو اکثر ریاست مخالف جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ فضائی یا ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجی کالز دراصل انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے دائرہ کار کو محدود کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے تاکہ دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر رہیں۔
غیر متناسب جنگ کے چیلنجز
یہ واقعہ غیر متناسب جنگ کی اس پیچیدہ صورتِ حال کو ظاہر کرتا ہے جہاں ٹیکٹیکل کاروائیوں کو فوری طور پر اطلاعاتی سطح پر توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ عسکریت پسندوں کے نقصانات پر پردہ ڈالا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق، ایسے ماحول میں شہری نقصان کا امکان بڑھ جاتا ہے، جس کا ذمہ دار براہِ راست وہ گروہ ہے جو عام آبادی کے پیچھے چھپ کر اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔