رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

September 24, 2026

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منشور میں پاک افغان سرحد سے متعلق بیانیے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

September 24, 2026

سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ پھر سامنے آگیا، فاروق ستار نے 6 یونٹس، یکساں وسائل اور بااختیار بلدیاتی نظام کی حمایت کردی۔

September 24, 2026

پشاور لانگ مارچ کی جانب جانے والی غلیلوں سے بھری گاڑی پکڑی گئی۔ حکام نے جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان پہنچانے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

September 24, 2026

ملک میں بہتر طرزِ حکمرانی اور مساوی ترقی کے لیے نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے، جس کی 76 فیصد نوجوانوں نے توثیق کر دی ہے۔

September 24, 2026

بی این ایم کے وفد نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ سے ملاقات کر کے جبری گمشدگیوں سے متعلق رپورٹ پیش کی ہے۔

September 24, 2026

طالبان کی پالیسیوں سے افغانستان 2030 تک 25 ہزار خواتین اساتذہ اور ہیلتھ ورکرز سے محروم ہو جائے گا؛ یونیسیف

یونیسف نے افغانستان میں خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں کو مستقبل کے لیے سنگی خطرہ قرار دیتے ہوئے 25 ہزار خواتین ورکرز کی کمی کا خدشہ ظاہر کر دیا۔
یونیسف نے افغانستان میں خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں کو مستقبل کے لیے سنگی خطرہ قرار دیتے ہوئے 25 ہزار خواتین ورکرز کی کمی کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

افغانستان میں خواتین پر پابندیوں کے اثرات؛ یونیسف کی رپورٹ کے مطابق 2030 تک 25 ہزار خواتین اساتذہ اور طبی عملے کی کمی ہو سکتی ہے، جس سے معیشت کو اربوں کا نقصان پہنچے گا۔

April 28, 2026

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان حکومت نے لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے روزگار پر عائد پابندیاں ختم نہ کیں تو افغانستان 2030 تک 25,000 سے زائد خواتین اساتذہ اور صحت کے شعبے کی کارکنوں سے محروم ہو جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق یہ کمی ملکی نظامِ زندگی اور بنیادی خدمات کے ڈھانچے کو بری طرح مفلوج کر سکتی ہے۔

تعلیمی اور طبی شعبوں پر اثرات

رپورٹ بعنوان “افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت نہ ہونے کی قیمت” میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ پابندیوں کی وجہ سے تربیت یافتہ خواتین کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ 2030 تک 20,000 خواتین اساتذہ اور 5,400 صحت کارکن طبی و تعلیمی منظر نامے سے غائب ہو جائیں گے، جو کہ 2021 کی مجموعی افرادی قوت کا تقریباً 25% بنتا ہے۔ مزید برآں، 2035 تک صحت کے شعبے میں یہ کمی 9,600 تک پہنچ سکتی ہے۔

انسانی اور سماجی بحران

یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے صورتحال کی سنگینی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان مستقبل کی نرسوں، ڈاکٹروں، دائیوں اور اساتذہ کو کھونے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین مریضوں کے علاج کے لیے خواتین ڈاکٹروں اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے خواتین اساتذہ کی موجودگی ناگزیر ہے، اور ان کی عدم دستیابی سے بنیادی انسانی خدمات کا تسلسل برقرار رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔

معیشت پر منفی اثرات

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خواتین کو لیبر مارکیٹ سے باہر رکھنے کی وجہ سے افغان معیشت کو سالانہ تقریباً 5.3 ارب افغانی (تقریباً 84 ملین ڈالر) کا براہِ راست نقصان ہو رہا ہے، جو ملک کی مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کا تقریباً 0.5% ہے۔ یونیسف نے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر لڑکیوں کی تعلیم بحال کریں اور خواتین کو پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کریں تاکہ ملک کو ایک بڑے انسانی اور معاشی المیے سے بچایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

September 24, 2026

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منشور میں پاک افغان سرحد سے متعلق بیانیے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

September 24, 2026

سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ پھر سامنے آگیا، فاروق ستار نے 6 یونٹس، یکساں وسائل اور بااختیار بلدیاتی نظام کی حمایت کردی۔

September 24, 2026

پشاور لانگ مارچ کی جانب جانے والی غلیلوں سے بھری گاڑی پکڑی گئی۔ حکام نے جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان پہنچانے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

September 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *