اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان حکومت نے لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے روزگار پر عائد پابندیاں ختم نہ کیں تو افغانستان 2030 تک 25,000 سے زائد خواتین اساتذہ اور صحت کے شعبے کی کارکنوں سے محروم ہو جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق یہ کمی ملکی نظامِ زندگی اور بنیادی خدمات کے ڈھانچے کو بری طرح مفلوج کر سکتی ہے۔
تعلیمی اور طبی شعبوں پر اثرات
رپورٹ بعنوان “افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت نہ ہونے کی قیمت” میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ پابندیوں کی وجہ سے تربیت یافتہ خواتین کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ 2030 تک 20,000 خواتین اساتذہ اور 5,400 صحت کارکن طبی و تعلیمی منظر نامے سے غائب ہو جائیں گے، جو کہ 2021 کی مجموعی افرادی قوت کا تقریباً 25% بنتا ہے۔ مزید برآں، 2035 تک صحت کے شعبے میں یہ کمی 9,600 تک پہنچ سکتی ہے۔
Afghanistan is at risk of losing more than 25,000 female teachers and health workers by 2030 if the Taliban-led country's restrictions on girls' education and women's employment are not lifted, according to a new UNICEF report https://t.co/3qCnoiWQvg
— Reuters (@Reuters) April 28, 2026
انسانی اور سماجی بحران
یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے صورتحال کی سنگینی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان مستقبل کی نرسوں، ڈاکٹروں، دائیوں اور اساتذہ کو کھونے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین مریضوں کے علاج کے لیے خواتین ڈاکٹروں اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے خواتین اساتذہ کی موجودگی ناگزیر ہے، اور ان کی عدم دستیابی سے بنیادی انسانی خدمات کا تسلسل برقرار رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔
معیشت پر منفی اثرات
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خواتین کو لیبر مارکیٹ سے باہر رکھنے کی وجہ سے افغان معیشت کو سالانہ تقریباً 5.3 ارب افغانی (تقریباً 84 ملین ڈالر) کا براہِ راست نقصان ہو رہا ہے، جو ملک کی مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کا تقریباً 0.5% ہے۔ یونیسف نے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر لڑکیوں کی تعلیم بحال کریں اور خواتین کو پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کریں تاکہ ملک کو ایک بڑے انسانی اور معاشی المیے سے بچایا جا سکے۔