حالیہ دنوں میں کابل میں ایک سہولت کو نشانہ بنائے جانے کے بعد طالبان حکام کی جانب سے اسے “اسپتال” قرار دے کر پراپیگنڈا کیا گیا۔ تاہم، متبادل اور معتبر اطلاعات اس دعوے کے برعکس ایک سنگین حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس مقام کو درحقیقت عسکری تربیت، ڈرونز کی تیاری اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ یہ صورتحال بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہری انفراسٹرکچر کی “محفوظ حیثیت” اور اس کے عسکری استعمال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے قانونی مضمرات پر ایک نئی بحث کا تقاضا کرتی ہے۔
قانونی حیثیت اور استعمال کا اصول
بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت کسی بھی سہولت کا جائزہ محض اس کے نام (جیسے ہسپتال یا اسکول) کی بنیاد پر نہیں لیا جاتا، بلکہ اس کے اصل استعمال کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔ روم اسٹیٹ کا آرٹیکل 8 واضح کرتا ہے کہ شہری سہولیات کو تحفظ صرف اسی صورت حاصل ہوتا ہے جب وہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہو رہی ہوں۔ جیسے ہی کسی اسپتال یا شہری عمارت کو اسلحہ کے ذخیرے، عسکری تربیت یا آپریشنل معاونت کے لیے مختص کر دیا جائے، وہ اپنی محفوظ حیثیت کھو دیتی ہے اور بین الاقوامی قانون کی رو سے ایک “جائز فوجی ہدف” بن جاتی ہے۔
بین الاقوامی ممانعت
رپورٹس کے مطابق طالبان کی جانب سے شہری آبادی کے درمیان عسکری اثاثوں کی موجودگی “انسانی ڈھال” کے زمرے میں آتی ہے۔ اضافی پروٹوکول I (آرٹیکل 51، شق 7) یہ قانون واضح طور پر شہری آبادی یا شہری املاک کو فوجی اہداف کے تحفظ کے لیے استعمال کرنے سے روکتا ہے۔ جنیوا کنونشنز فریقین کو پابند کرتے ہیں کہ وہ اپنے فوجی اہداف کو شہری علاقوں سے دور رکھیں تاکہ عام شہریوں کو جنگی اثرات سے بچایا جا سکے۔ فوجی اثاثوں کو دانستہ طور پر شہری علاقوں میں رکھنا براہِ راست احتیاطی ذمہ داریوں سے انحراف ہے۔
طبی مراکز اور جنیوا کنونشنز کے تقاضے
جنیوا کنونشنز کی دفعات 18 اور 19 کے تحت طبی مراکز کی محفوظ حیثیت کے لیے سخت شرائط موجود ہیں۔ ان مراکز کو صرف اور صرف انسانی ہمدردی اور طبی امداد کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، نیز ان کی واضح شناخت اور فوجی اہداف سے مکمل علیحدگی لازمی ہے۔ کابل کی مذکورہ سہولت “اُمید” ان قانونی تقاضوں پر پورا نہیں اتری، کیونکہ وہاں ڈرونز، فوجی اسلحہ اور خودکش حملہ آوروں کی تربیت کے شواہد ملے، جس نے اس کی اسپتال والی حیثیت کو قانونی طور پر ختم کر دیا۔
اصولِ امتیاز کی سنگین پامالی
بین الاقوامی انسانی قانون کا بنیادی ستون “اصولِ امتیاز” ہے، جو فوجی ہدف اور شہری آبادی کے درمیان واضح فرق کا تقاضا کرتا ہے۔ طالبان حکام نے شہری اور فوجی ڈھانچے کو ایک دوسرے میں مدغم کر کے اس اصول کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ جب عسکری تربیت اور شہری سہولیات کے درمیان فرق دانستہ طور پر دھندلا دیا جائے، تو اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی تمام تر قانونی و اخلاقی ذمہ داری اس فریق پر عائد ہوتی ہے جس نے شہری مقام کو عسکری ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔
پاکستان کا قانونی مؤقف اور حکمتِ عملی
پاکستان کا آپریشنل مؤقف ہمیشہ بین الاقوامی قانون کے تین سنہری اصولوں پر مبنی رہا ہے۔ اول “امتیاز” یعنی صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنانا، دوم “تناسب” یعنی کارروائی کو خطرے کے برابر رکھنا، اور سوم “احتیاط” یعنی عام شہریوں کے نقصان سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنا۔ پاکستان صرف ان اہداف کو نشانہ بناتا ہے جنہیں وقتِ کارروائی میں فوجی نوعیت کا سمجھا جائے، نہ کہ محض کسی لیبل یا نام کی بنیاد پر۔
حتمی ذمہ داری اور نتیجہ
تحقیقی شواہد اور قانونی دفعات یہ ثابت کرتی ہیں کہ کابل میں جس سہولت کو اسپتال کہا گیا، وہ درحقیقت ایک عسکری تنصیب بن چکی تھی۔ حتمی ذمہ داری طالبان حکام پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری سہولت کو فوجی اثاثے میں تبدیل کیا، اپنی ہی آبادی کو خطرے میں ڈالا اور پھر اسے سیاسی پروپیگنڈے کے طور پر پیش کیا۔ شہری انفراسٹرکچر کی عسکری کاری نہ صرف جنگی جرم ہے بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔