کابل: افغان طالبان کا انٹیلی جنس نظام ان درجنوں تکنیکی ماہرین اور آپریٹرز کی تلاش میں مصروف ہے جو ڈرون تیار کرنے اور انہیں اڑانے کی تربیت حاصل کرنے کے بعد روپوش ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ ماہرین کیمپ فینکس میں خطیر رقم کی لاگت سے تربیت حاصل کر رہے تھے، تاہم ڈرون ورکشاپ پر پاکستانی فضائی حملوں کے بعد یہ افراد وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
اطلاعات کے مطابق ان میں سے بیشتر افراد کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد بھارت فرار ہو گئے تھے، جنہیں افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے دورہ بھارت کے بعد واپس لایا گیا تھا۔ ان ماہرین کی گمشدگی کو طالبان کے فضائی دفاعی پروگرام کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ان کی تربیت اور تکنیکی مہارت پر بھاری سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ افغان انٹیلی جنس ادارے اب ان افراد کے ٹھکانوں کا سراغ لگانے کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مار رہے ہیں۔
دوسری جانب افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے خلاف برسرِ پیکار گروپوں کی سرگرمیوں میں بھی اچانک تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران ملک کے مختلف حصوں بشمول نیمروز، غزنی، نورستان، فاریاب اور کابل میں طالبان مخالف گروپوں کے حملوں میں کم از کم 10 طالبان جنگجو ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف تکنیکی ماہرین کا فرار اور دوسری طرف اندرونی مزاحمت میں اضافہ طالبان حکومت کے لیے سکیورٹی اور گورننس کے محاذ پر نئے چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔
دیکھئیے:کابل واقعہ: عوامی املاک کا عسکری استعمال، ہسپتال کے پردے میں مبینہ دہشت گردی کی تربیت بے نقاب