آسٹریا کی حکومت نے تارکینِ وطن کے حوالے سے سخت پالیسی اپناتے ہوئے ازبکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد ناکام پناہ گزینوں کو ازبکستان کے راستے واپس افغانستان بھیجنا ہے۔ یہ معاہدہ آئندہ ماہ سات مئی کو تاشکند میں طے پائے گا، جس کے لیے آسٹریا کے وزرائے خارجہ اور داخلہ ازبکستان کا دورہ کریں گے۔
یورپی یونین کے رکن ممالک، جن میں ڈنمارک، آسٹریا، یونان، جرمنی اور ہالینڈ شامل ہیں، غیر قانونی تارکینِ وطن کے لیے بلاک سے باہر مراکز قائم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ آسٹریا کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق یہ معاہدہ ان افراد کی منتقلی کے لیے انتہائی اہم ہے جنہیں ان کے آبائی ممالک واپس بھیجا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ طالبان کے دو ہزار اکیس میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے آسٹریا نے گزشتہ سال پہلی بار چند افغان شہریوں کو ملک بدر کیا تھا جبکہ حالیہ دنوں میں شام کے چند شہریوں کو بھی واپس بھیجا جا چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے اس اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ فیصلہ غیر واپسی کے اصول کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے کیونکہ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس پیشرفت کو تشویشناک قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی زبردستی ملک بدری انہیں سنگین خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ معاہدہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔