کابل: امارت اسلامی کی جانب سے توشیح کے بعد ‘قانونِ مبلغین’ کو باقاعدہ طور پر جریدہ رسمیہ میں شائع کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں تمام مذہبی اور تبلیغی سرگرمیوں کو براہِ راست ریاستی کنٹرول میں لانا ہے۔ وزارتِ عدلیہ کی جانب سے جاری کردہ اس ۱۷ نکاتی قانون کے بعد مذہبی آزادی اور مکتبِ فکر کے تنوع پر شدید پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اب مذہب کو صرف اور صرف ایک حکومتی اور آمرانہ آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
نیا قانون ۱۷ دفعات، تین ابواب اور دو فصلوں پر مشتمل ہے، جس کے نفاذ کی ذمہ داری وزارتِ امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور سمع شکایات کو سونپی گئی ہے۔ قانون کے چھٹے آرٹیکل کے تحت تبلیغ کے لیے صرف حنفی مسلک سے وابستہ افراد کو ہی اہل قرار دیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان کے دیگر مکاتبِ فکر اور مسالک کے ماننے والوں کو کھلے عام مذہبی دباؤ اور اخراج کا سامنا ہے۔ یہ اقدام اس بات کی کھلی عکاسی کرتا ہے کہ موجودہ حکومت کسی بھی قسم کے تنوع کو برداشت کرنے کے بجائے ایک مخصوص نظریے کو زبردستی نافذ کر رہی ہے۔
ریاستی منظور شدہ نصاب اور آزادانہ سوچ پر پابندی
قانون کے آرٹیکل آٹھ، دس اور بارہ کے تحت مبلغین کے لیے طریقہ کار اور آداب طے کر دیے گئے ہیں، جن کے تحت مبلغین کو ایک مخصوص ریاستی نصاب کی پیروی کرنی ہوگی۔ یہ فیصلہ آزادانہ علمی تحقیق اور مذہبی اسکالرشپ کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے، کیونکہ مبلغین کو صرف ان موضوعات پر بات کرنے کی اجازت ہوگی جو وزارت کی جانب سے منظور شدہ ہیں۔
مزید برآں، فروعی اور اختلافی مسائل پر بحث کرنے پر سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو فکری بحث و مباحثے سے کس قدر خوف ہے۔ اس قانون کے تحت مبلغین کو مکلف کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے والی باتوں سے پرہیز کریں، لیکن اس کے برعکس اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ امیر کی اطاعت کو یقینی بنایا جائے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ شق مبلغین کو براہِ راست حکومتی ایجنٹ بنانے کی کوشش ہے، تاکہ شیخ ہبت اللہ اخوندزادہ کی مطلق العنان اور غیر چیلنج شدہ اتھارٹی کو تسلیم کروایا جا سکے۔
ہبت اللہ اخوندزادہ کا تسلط اور نظریاتی کنٹرول
اس پورے نظام کا مرکز شیخ ہبت اللہ اخوندزادہ کی ذات ہے، جو کسی بھی جمہوری یا آئینی ادارے کے بغیر براہِ راست قندھار سے احکامات جاری کر رہے ہیں۔ قانون کے آرٹیکل سترہ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس سے قبل کے تمام قوانین جو اس کے متصادم تھے، منسوخ کر دیے گئے ہیں، جس کا مطلب ایک مکمل نظریاتی اور فکری تبدیلی ہے۔ اس اقدام کے بعد مبلغین اور خطیبوں کی تقرری اور نگرانی کے لیے ڈائریکٹوریٹ اور امیریات کے تحت ایک سخت نگرانی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔
قانون کے باب دوم کی رو سے امیریات کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ غیر حنفی افراد کی تبلیغ کو روکیں، مبلغین کی کارکردگی کی جانچ پڑتال کریں، اور وزارت کو رپورٹ پیش کریں۔ اس کے علاوہ عام لوگوں، مجاہدین اور امامِ مساجد کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ مبلغین کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ یہ پورا نظام اس بات کا ثبوت ہے کہ امارت اسلامی کے تحت مذہب کو ایک تنگ اور محدود دائرے میں قید کیا جا رہا ہے، تاکہ معاشرے میں کسی بھی قسم کی تنوع پسندی اور آزادانہ سوچ کو کچلا جا سکے۔
مذہبی فرائض کا پروپیگنڈے کے طور پر استعمال
قانون کی دفعات کے تحت مبلغین کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ عبادات، زکات، حقوق، اخلاق اور دیگر معاملات پر بات کریں، لیکن اس میں سب سے زیادہ زور امیر کی اطاعت اور جہاد کی فضیلت پر دیا گیا ہے۔ مذہبی اسکالرز خبردار کر رہے ہیں کہ یہ عمل مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے مترادف ہے۔
قانون کے تحت مبلغین کو یہ بھی مکلف کیا گیا ہے کہ وہ خواتین کے حقوق، پڑوسیوں کے حقوق، والدین اور اولاد کے تعلقات، اور یتیموں و غریبوں کی دیکھ بھال جیسے مسائل پر بھی بات کریں، تاہم ان تمام معاملات کی تشریح بھی ریاستی دائرے کے اندر رہ کر ہی کی جا سکتی ہے۔ اس کے باوجود، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تمام تر اقدامات محض لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں اور اس میں عام شہریوں کی حقیقی ضروریات کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس پیشرفت کو تشویشناک قرار دے رہی ہیں، کیونکہ یہ اقدام خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک خطرناک مثال بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق، زبردستی ایک ہی مسلک کا نفاذ معاشرے میں فکری گھٹن اور علمی جمود پیدا کر رہا ہے، جو کہ رواداری کے اسلامی اصولوں کے سراسر منافی ہے۔
دیکھئیے:نیا قانونِ تبلیغ: افغانستان میں مذہبی نظم و ضبط یا فکری آزادیوں پر قدغن؟ اہلِ علم کے شدید تحفظات