اسلام آباد کے صحافتی حلقوں میں مطیع اللہ جان کے حالیہ غیر ذمہ دارانہ اور قومی مفاد کے منافی رویے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس جرم میں وہ اکیلے نہیں بلکہ اسد طور اور ثاقب بشیر جیسے افراد بھی ان کے شانہ بشانہ شامل ہیں، جو ملک کے بہتر حالات میں رکاوٹ بننے والی مخصوص ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
پلیٹ فارم کا غلط استعمال
اس بات کی فوری اور شفاف تحقیق ناگزیر ہو چکی ہے کہ نیشنل پریس کلب جیسے معتبر ادارے کے پلیٹ فارم کو ذاتی ایجنڈے اور یکطرفہ بیانیے کے فروغ کے لیے کس طرح استعمال ہونے دیا گیا؟ پریس کلب کے ان عہدیداروں کا تعین کرنا بھی لازم ہے جنہوں نے پیشہ ورانہ صحافت کے اصولوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ان عناصر کی سہولت کاری کی۔ نیشنل پریس کلب پر اب یہ فرض ہے کہ وہ اپنی صفوں سے ایسے شر پسندوں کو فوری نکال باہر کرے۔
عالمی سطح پر ملکی ساکھ کو نقصان
غیر ملکی صحافیوں کے سامنے ملک کے داخلی معاملات کو اس انداز میں اٹھانا کہ ریاست کا موقف کمزور پڑے، ایک ناقابلِ معافی اور گری ہوئی حرکت ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف صحافتی ذمہ داریوں کے منافی ہے بلکہ عوامی پلیٹ فارمز پر عدالتی معاملات پر فیصلے سنانے کا تاثر دینا ملکی ادارہ جاتی نظام کو براہِ راست چیلنج کرنے کے مترادف ہے، جس کی سزا کا تعین ہونا ضروری ہے۔
ادارہ جاتی احتساب اور ضابطہ اخلاق
یہ معاملہ محض چند افراد کا نہیں بلکہ اداروں کی ساکھ اور ملک کے امیج سے جڑا ہوا ہے۔ اس حوالے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نیشنل پریس کلب اپنے داخلی ضابطہ اخلاق کے تحت اس معاملے کا جائزہ لے اور ذمہ داروں کے خلاف قرار واقعی تادیبی کارروائی عمل میں لائے۔ مزید برآں، میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے لیے واضح پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔
اظہار رائے اور ریاستی ذمہ داری
ریاستی اداروں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آزادیِ اظہار اور قومی مفاد کے درمیان توازن قائم رکھیں۔ قانون کے مطابق شفاف اور منصفانہ کارروائی ہی وہ واحد راستہ ہے جو نہ صرف کڑا احتساب یقینی بناتا ہے بلکہ صحافت کے مقدس پیشے کے وقار کو بھی برقرار رکھتا ہے۔