پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے حالیہ دنوں میں پیش کیے جانے والے انقلابی بیانیے پر سیاسی حلقوں میں شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اڈیالہ جیل کے باہر علیمہ خان کی جانب سے پارٹی قیادت، وکلاء اور مخصوص افراد کی حمایت میں دیے جانے والے بیانات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا یہ طرزِ عمل خود ‘بوٹس’ جیسا کردار ادا نہیں کر رہا؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ انقلاب کی باتیں کرنے والی قیادت پچھلے تیرہ برسوں سے خیبر پختونخوا میں برسرِاقتدار ہے، مگر وہاں عوام کی حالت بدلنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردِعمل
پارٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کو “بوٹس” اور “جعلی اکاؤنٹس” کہہ کر مسترد کرنے کی حکمتِ عملی کو عوامی ردِعمل سے آنکھیں چرانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ جب کارکردگی سوالات کی زد میں آتی ہے تو ہر تنقید کو سازش قرار دینا ایک گھسی پٹی حکمتِ عملی بن چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پارٹی کے اندرونی اختلافات، گروپنگ اور قیادت پر عدم اعتماد اب ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ یہ دعویٰ کرنا کہ 80 سے 90 فیصد تنقید جعلی ہے، دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ اصل مسائل پارٹی کے اندر ہی موجود ہیں۔
انقلاب کے دعوے اور زمینی حقائق کا ٹکراؤ
عوام کو گمراہ کرنے کے لیے “انقلاب” جیسے بڑے دعوے کرنا تو آسان ہے، مگر زمین پر حقیقت خالی جلسوں، کمزور تنظیم اور بکھری ہوئی قیادت کی صورت میں عیاں ہے۔ ایران کے انقلاب سے موجودہ صورتحال کا موازنہ نہ صرف غیر سنجیدہ ہے بلکہ تاریخی حقائق کی غلط تشریح بھی ہے۔ پاکستان ایک آئینی و جمہوری ریاست ہے جہاں تبدیلی کا راستہ جذباتی نعروں یا مصنوعی ہیجان سے نہیں بلکہ صرف قانون، آئین اور عوامی مینڈیٹ سے ہی ممکن ہے۔
مستحکم قیادت کی ضرورت
نوجوانوں میں مبینہ “انقلابی کیفیت” کے دعوے کے برعکس، آج کا نوجوان باشعور ہے اور وہ انتشار، دھرنے یا افراتفری کے بجائے کارکردگی، استحکام اور ترقی چاہتا ہے۔ عوام کسی خیالی انقلاب کے انتظار میں نہیں بلکہ عملی اقدامات اور ذمہ دارانہ قیادت کے منتظر ہیں۔ سوشل میڈیا کی آڑ میں اندرونی گروپنگ کی خبروں کو جھٹلانا حقیقت کو نہیں بدل سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو پھر سیاسی میدان خالی کیوں نظر آ رہا ہے؟ یہ صورتحال انقلاب نہیں بلکہ سیاسی ناکامی کو چھپانے کی ایک بے بس کوشش معلوم ہوتی ہے۔