سکیورٹی فورسز نے آپریشن ردالفتنہ-3 کے تحت بلوچستان کے اضلاع واشک اور مستونگ میں کارروائیاں کرتے ہوئے بھارت کی زیر سرپرستی فتنہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد ہلاک کر دیے، ایک ٹھکانہ بھی تباہ۔

August 6, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے صومالیہ کے وزیر دفاع سفیر احمد معلم فقی کی قیادت میں اعلیٰ سطح وفد نے جی ایچ کیو میں ملاقات کی جس میں دوطرفہ دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

August 6, 2026

شانگلہ کے ذہین طالبعلم ابو سفیان نے میٹرک میں 865 نمبر لیے مگر غربت نے اسے کوئلہ کان میں مزدوری پر مجبور کیا جہاں وہ حادثے میں شہید ہو گیا۔

August 6, 2026

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے معاملے پر اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے من مانی حراست میں درخواست سے بے گناہی یا ریاست کی ذمہ داری ثابت نہیں ہوتی؛ ملکی عدالتی فیصلوں کے خلاف قانونی راستہ اپیل ہی ہے۔

August 6, 2026

سفینہ خان نے کہا کہ آئین میں فوج یا پولیس اہلکار کو لازماً شہید قرار دینے کی کوئی شق نہیں، شہادت ایک دینی مقام ہے۔

August 6, 2026

شیخ حسینہ بیٹے کو آگے لا کر نیا سیاسی روپ دھارنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم بنگلہ دیشی عوام نے پرانے بیانیے اور پاکستان مخالف کارڈ کو رد کر دیا ہے۔

August 6, 2026

افغان ہزارہ برادری: ایک صدی پر محیط جبر، قتلِ عام اور سیاسی تنہائی کی المناک داستان

افغانستان میں ہزارہ برادری کو ایک صدی سے زائد عرصے سے منظم مظالم، قتلِ عام اور اب سیاسی اخراج کا سامنا ہے، جس سے ان کی بقا اور شناخت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
افغانستان میں ہزارہ برادری کو ایک صدی سے زائد عرصے سے منظم مظالم، قتلِ عام اور اب سیاسی اخراج کا سامنا ہے، جس سے ان کی بقا اور شناخت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

ہزارہ برادری دہائیوں سے تشدد اور جبر کا شکار رہی ہے، جو اب سیاسی اور انتظامی دباؤ کی شکل اختیار کر چکا ہے، اور اس وقت یہ اپنی شناخت، بقا اور سماجی و سیاسی کردار کے سنگین بحران سے گزر رہی ہے۔

May 1, 2026

افغانستان میں آباد ہزارہ برادری کو ایک صدی سے زائد عرصے سے ملک کے سب سے زیادہ مظلوم اور ستم رسیدہ نسلی گروہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاریخی طور پر قتلِ عام، غلامی اور سماجی اخراج کا سامنا کرنے والی یہ برادری آج بھی اپنی بقا اور شناخت کی جنگ لڑنے پر مجبور ہے۔ ان کی داستان جسمانی نسل کشی سے شروع ہو کر اب سیاسی اور شہری زندگی سے مکمل طور پر غائب کیے جانے کے مرحلے تک پہنچ چکی ہے۔

سماجی اخراج اور سیاسی تنہائی

ماضی قریب میں ہزارہ برادری افغانستان میں تعلیم اور عوامی زندگی کے شعبوں میں ایک نمایاں قوت کے طور پر ابھری تھی، تاہم موجودہ نظام کے تحت انہیں ایک بار پھر دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ انہیں سیاسی عمل سے باہر رکھنے کے ساتھ ساتھ شہری حقوق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں یہ برادری تقریباً مکمل طور پر عوامی منظر نامے سے اوجھل ہوتی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی اخراج کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔

شناخت اور بقا کا ابھرتا ہوا بحران

ماہرین اس صورتحال کو ہزارہ برادری کی شناخت، بقا اور مزاحمت کے ایک سنگین بحران کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایک ایسی قوم جو کبھی تعلیم کے میدان میں پیش پیش تھی، آج اسے ہر سطح پر مٹانے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہ بحران اب صرف جسمانی وجود تک محدود نہیں رہا بلکہ ہزارہ برادری کی فکری اور سیاسی شناخت کو مکمل طور پر ختم کرنے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

تاریخی پس منظر اور جبری گمشدگی

ہزارہ برادری کی تاریخ گواہ ہے کہ انہیں دہائیوں سے قتلِ عام اور جبری غلامی کا نشانہ بنایا گیا، لیکن حالیہ برسوں میں یہ ظلم جسمانی سے بدل کر انتظامی اور سیاسی نوعیت اختیار کر گیا ہے۔ موجودہ حالات میں یہ برادری ایک ایسی خاموش نسل بنتی جا رہی ہے جس کا عوامی زندگی میں اب کوئی کردار باقی نہیں رہا۔

متعلقہ مضامین

سکیورٹی فورسز نے آپریشن ردالفتنہ-3 کے تحت بلوچستان کے اضلاع واشک اور مستونگ میں کارروائیاں کرتے ہوئے بھارت کی زیر سرپرستی فتنہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد ہلاک کر دیے، ایک ٹھکانہ بھی تباہ۔

August 6, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے صومالیہ کے وزیر دفاع سفیر احمد معلم فقی کی قیادت میں اعلیٰ سطح وفد نے جی ایچ کیو میں ملاقات کی جس میں دوطرفہ دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

August 6, 2026

شانگلہ کے ذہین طالبعلم ابو سفیان نے میٹرک میں 865 نمبر لیے مگر غربت نے اسے کوئلہ کان میں مزدوری پر مجبور کیا جہاں وہ حادثے میں شہید ہو گیا۔

August 6, 2026

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے معاملے پر اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے من مانی حراست میں درخواست سے بے گناہی یا ریاست کی ذمہ داری ثابت نہیں ہوتی؛ ملکی عدالتی فیصلوں کے خلاف قانونی راستہ اپیل ہی ہے۔

August 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *