برطانیہ میں پیش آنے والے ایک حالیہ واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اظہر مشوانی اور ان جیسے دیگر انتشار پسند عناصر سیاسی اختلاف کو بدتمیزی اور غنڈہ گردی میں تبدیل کر چکے ہیں۔ عینی شاہدین اور سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق اظہر مشوانی خود اس ہجوم کی قیادت کر رہے تھے جس نے اخلاقی حدود کو پار کرتے ہوئے اشتعال انگیزی کی۔ اس واقعے کے بعد مشوانی اور ان کے ساتھیوں کی اصل ذہنیت عالمی سطح پر عیاں ہو چکی ہے جو کسی بھی مہذب سیاسی روایت کی نفی کرتی ہے۔
فیملی کی موجودگی میں ہراسانی
مذہبی رہنماء حافظ محمد طاہر محمود اشرفی پر اس وقت حملہ آور ہونے کی کوشش کی گئی جب وہ اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ موجود تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حافظ طاہر اشرفی بار بار حملہ آوروں کو متوجہ کرتے رہے کہ ان کے ساتھ باپردہ خواتین موجود ہیں، لیکن اظہر مشوانی کی قیادت میں موجود گروہ نے تمام اخلاقی و دینی اقدار کو روند ڈالا۔ خواتین کی موجودگی میں بدزبانی اور راہ چلتی فیملی کو ہراساں کرنا اخلاقی دیوالیہ پن کی بدترین مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
قومی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی
مشتعل ہجوم نے نہ صرف نازیبا زبان استعمال کی بلکہ قومی اور عسکری شخصیات کے خلاف بھی شدید ہرزہ سرائی کی۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان کے خلاف زہر اگلنے والے عناصر صرف اور صرف نفرت اور انتشار کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر نہ تو پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ ہی ان کا طرزِ عمل کسی مہذب معاشرے کے شایانِ شان ہے۔
ملکی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی منظم کوشش
سیاسی مبصرین کے مطابق مشوانی جیسے کردار بیرونِ ملک مقیم ہو کر پاکستان کی ساکھ کو عالمی سطح پر نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں۔ ایک خاندان کو سرِ عام ہراساں کرنا اور سیاسی مخالفت میں اخلاقی پستی کی انتہا تک جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ ان کا مقصد صرف انتشار پھیلانا ہے۔ اس واقعے کے بعد عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے شر پسند عناصر کے خلاف ضابطے کے مطابق کاروائی ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی کی نجی زندگی اور خاندان کو سیاسی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔