ضلع باجوڑ کے علاقوں ماموند اور سالارزئی میں افغان فورسز کی جانب سے سرحد پار سے کی جانے والی بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 9 بے گناہ شہری شہید اور 12 زخمی ہو گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر باجوڑ کے دفتر سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، افغان فورسز نے لغڑی ماموند اور تاریشہ شاہ سالارزئی کے علاقوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا، جس سے متعدد رہائشی مکانات بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
جانی نقصانات اور شہداء کی تفصیلات
سرکاری دستاویزات کے مطابق فروری سے اپریل 2026 کے دوران پیش آنے والے ان افسوسناک واقعات میں مجموعی طور پر 9 شہادتیں ہوئیں۔ شہداء میں برہ لغڑی ماموند سے تعلق رکھنے والی 3 خواتین، تاریشہ شاہ سالارزئی کے 4 معصوم بچے (ریاض، فیاض، معاض اور ساجد) اور برہ لغڑی کے مزید 2 بچے شامل ہیں۔ ان بزدلانہ حملوں میں 12 شہری زخمی بھی ہوئے، جن میں 7 خواتین، 4 مرد اور ایک بچہ شامل ہے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد کے بعد پشاور منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ انہیں بہتر علاج کی سہولیات میسر آ سکیں۔

انتظامیہ کا ردعمل
ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز نے ان حملوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی کی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تباہ شدہ مکانات کی بحالی کے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر باجوڑ نے یقین دلایا ہے کہ شہداء کے ورثاء اور زخمیوں کو حکومتی پالیسی کے مطابق معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
عالمی خاموشی پر سوالات
افغان فورسز کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنانے پر مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ 16 اپریل 2026 کو مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ افغان فورسز کی جانب سے اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیوں کو فوری طور پر روکا جائے۔ دوسری جانب، ان انسانیت سوز واقعات پر اقوام متحدہ اور عالمی میڈیا کی خاموشی پر بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اکثر و بیشتر دوہرے معیار کا مظاہرہ کرتے ہیں۔