کابل: افغانستان کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے اور لاکھوں افراد کو ہنگامی امداد کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب طالبان حکومت کی جانب سے ملک میں بہتری کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جنہیں زمینی حقائق کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، افغان عوام کی یہ بدحالی محض اتفاق نہیں بلکہ طالبان کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشت گرد گروہوں سے غیر فطری وابستگی نے افغانستان کو غربت، تنہائی اور جبر کی طرف دھکیل دیا ہے۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران عوام کو امن اور روزگار کے بجائے صرف مایوسی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
طالبان رجیم نے افغانستان کو ایک نظریاتی قید خانہ بنا دیا ہے، جہاں شہری بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ حکمران اپنے شہریوں کی حفاظت کرنے کے بجائے دہشت گرد تنظیموں کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ ان پالیسیوں کی وجہ سے افغان معیشت، وقار اور مستقبل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان عوام اس ظلم کے مستحق نہیں ہیں۔ افغانستان کا اصل مستقبل دہشت گردی سے نہیں بلکہ امن، تعلیم، معیشت اور عوامی اختیار کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
دیکھئیے:افغان ہزارہ برادری: ایک صدی پر محیط جبر، قتلِ عام اور سیاسی تنہائی کی المناک داستان