خضدار بلوچستان کے ضلع خضدار میں مقامی شہریوں کے دلوں میں کالعدم تنظیم بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) کے خلاف دہکتی نفرت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ علاقے کے مکینوں نے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کے دوران دہشت گرد گروہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور تنظیم کے جھنڈے کو آگ لگا کر اپنی بیزاری اور غصے کا اظہار کیا۔
دہشت گردی اور معیشت
احتجاج میں شریک مقامی شہریوں کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کبھی بھی بلوچستان اور یہاں کے باسیوں کی مخلص نہیں ہو سکتی۔ مظاہرین نے مؤقف اختیار کیا کہ اس تنظیم کی شرپسندانہ کاروائیوں کی وجہ سے نہ صرف علاقے کا امن و امان تباہ ہوا ہے بلکہ مقامی کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ شہریوں کے مطابق، دہشت گردی کے باعث پیدا ہونے والی عدم استحکام کی صورتحال نے عام آدمی سے اس کا روزگار چھین لیا ہے۔
زمینی حقائق
مظاہرے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہریوں نے بی ایل اے کے نام نہاد “بلوچ مسیحائی” کے دعوؤں کو مسترد کر دیا۔ ایک شہری کا کہنا تھا کہ “اگر یہ تنظیم واقعی بلوچوں کی خیر خواہ ہوتی تو کبھی اپنے ہی بھائیوں اور مقامی افراد پر گولے نہ برساتی اور نہ ہی انہیں نشانہ بناتی۔” شہریوں نے واضح کیا کہ معصوم لوگوں کا خون بہانے والے گروہ کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
امن کی بحالی کا مطالبہ
خضدار کے عوام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اب مزید کسی کو اپنے پرامن مستقبل سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ ریاست ان دہشت گرد عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹے تاکہ ترقی اور خوشحالی کا سفر دوبارہ شروع ہو سکے۔ جھنڈا جلانے کا یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ بلوچستان کے عوام اب دہشت گردی کے بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کر چکے ہیں۔