افغانستان کے اندرونی حالات، خصوصاً ہزارہ برادری جیسے اقلیتی گروہوں پر حملے، اس بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ انسانی صورتحال اور امن و امان کی بگڑتی کیفیت نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرے کی علامت بن چکی ہے۔

May 2, 2026

مقامی اطلاعات کے مطابق وہ 2021 کے بعد دوبارہ متحرک ہوئے اور ضلع منوگی، کنڑ میں اثر و رسوخ برقرار رکھا۔ 2023 کے موسمِ گرما میں کابل جاتے ہوئے طالبان نے انہیں گرفتار کیا، تاہم وہ صرف تین ہفتے حراست میں رہے۔ بعد ازاں مبینہ طور پر مالی ادائیگی اور طالبان صفوں میں موجود ہمدرد عناصر کی مدد سے رہائی حاصل کر لی۔

May 2, 2026

فروری 2026 کی اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں میں اضافہ ہوا ہے، تقریباً چھ ہزار جنگجو مختلف افغان صوبوں میں سرگرم ہیں، اور انہیں پناہ، سہولت اور لاجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں چھ سو سے زائد حملوں کا سراغ افغان علاقوں تک جاتا ہے۔ طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں، مگر اس کا معاشی بوجھ افغان عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

May 2, 2026

دفترِ خارجہ نے عید الفطر کے بعد سے افغان طالبان کی سرحد پار فائرنگ سے 52 پاکستانی شہریوں کی شہادت اور 84 کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

May 2, 2026

انگلش تہذیب کا یہ مغالطہ ختم نہیں ہو پا رہا ہے کہ وہی مہذب ترین ہے۔ تاریخ کا ان کا مبلغ فہم یہ ہے کہ رومن امپائر کے خاتنمے کے بعد دنیا تاریکیوں میں ڈوب گئی یہاں تک کہ پھر یورپ میں نشاۃ ثانیہ ہوئی اور دنیا پھر سے مہذب اور تعلیم یافتہ ہو گئی۔ اس سارے عمل میں اسلامی تہذیب کا جو کردار تھا اس کا یہ ذکر نہیں کرتے۔

May 2, 2026

فوزیہ کوفی نے طالبان کی جانب سے اپنے گھر پر قبضے اور رشتہ داروں سمیت بدخشان کے شہریوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ فعل قرار دے دیا ہے۔

May 2, 2026

سرحد پار خطرات میں اضافہ اور افغانستان سے پھیلتی بدامنی پر عالمی خدشات؛ ابراہیم المراشی کا اہم تجزیہ

افغانستان کے اندرونی حالات، خصوصاً ہزارہ برادری جیسے اقلیتی گروہوں پر حملے، اس بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ انسانی صورتحال اور امن و امان کی بگڑتی کیفیت نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرے کی علامت بن چکی ہے۔
سرحد پار خطرات میں اضافہ اور افغانستان سے پھیلتی بدامنی پر عالمی خدشات؛ ابراہیم المراشی کا اہم تجزیہ

تجزیے کے مطابق 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک داخلی اور علاقائی استحکام کے حصول میں ناکامی نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کیا ہے۔

May 2, 2026

ابراہیم المراشی کی جانب سے ایشیا ون کو دیے گئے ایک حالیہ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ کابل میں طالبان کی حکمرانی میں کمزوری نہ صرف افغانستان کے اندر عدم استحکام کو بڑھا رہی ہے بلکہ اس کے اثرات پورے خطے میں سلامتی کے خدشات کو جنم دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انتظامی کمزوری، معاشی دباؤ اور اندرونی بدامنی نے شدت پسند گروہوں کے لیے دوبارہ منظم ہونے کے مواقع پیدا کر دیے ہیں، جس سے افغانستان ایک بار پھر غیر محفوظ پناہ گاہ بنتا جا رہا ہے۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں میں اضافہ افغانستان کے اندر بڑھتی ہوئی بے یقینی سے جڑا ہوا ہے۔ سرحد پار حملوں اور شدت پسند نیٹ ورکس کی نقل و حرکت نے پاکستان کے لیے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ صورتحال وسطی ایشیا تک پھیل سکتی ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ ازبکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے سخت گیر گروہ افغانستان میں دوبارہ منظم ہونے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران، خلیجی خطے اور دیگر ہمسایہ ریاستوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی مجموعی طور پر پورے خطے کو غیر مستحکم بنا رہی ہے، جس سے جنوب مغربی ایشیا ایک وسیع عدم تحفظ کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔

افغانستان کے اندرونی حالات، خصوصاً ہزارہ برادری جیسے اقلیتی گروہوں پر حملے، اس بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ انسانی صورتحال اور امن و امان کی بگڑتی کیفیت نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرے کی علامت بن چکی ہے۔

تجزیے کے مطابق 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک داخلی اور علاقائی استحکام کے حصول میں ناکامی نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خلا شدت پسند عالمی نیٹ ورکس کے لیے مواقع پیدا کر رہا ہے، جس سے افغانستان طویل مدت میں ایک بڑے بین الاقوامی خطرے کے مرکز کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

مقامی اطلاعات کے مطابق وہ 2021 کے بعد دوبارہ متحرک ہوئے اور ضلع منوگی، کنڑ میں اثر و رسوخ برقرار رکھا۔ 2023 کے موسمِ گرما میں کابل جاتے ہوئے طالبان نے انہیں گرفتار کیا، تاہم وہ صرف تین ہفتے حراست میں رہے۔ بعد ازاں مبینہ طور پر مالی ادائیگی اور طالبان صفوں میں موجود ہمدرد عناصر کی مدد سے رہائی حاصل کر لی۔

May 2, 2026

فروری 2026 کی اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں میں اضافہ ہوا ہے، تقریباً چھ ہزار جنگجو مختلف افغان صوبوں میں سرگرم ہیں، اور انہیں پناہ، سہولت اور لاجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں چھ سو سے زائد حملوں کا سراغ افغان علاقوں تک جاتا ہے۔ طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں، مگر اس کا معاشی بوجھ افغان عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

May 2, 2026

دفترِ خارجہ نے عید الفطر کے بعد سے افغان طالبان کی سرحد پار فائرنگ سے 52 پاکستانی شہریوں کی شہادت اور 84 کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

May 2, 2026

انگلش تہذیب کا یہ مغالطہ ختم نہیں ہو پا رہا ہے کہ وہی مہذب ترین ہے۔ تاریخ کا ان کا مبلغ فہم یہ ہے کہ رومن امپائر کے خاتنمے کے بعد دنیا تاریکیوں میں ڈوب گئی یہاں تک کہ پھر یورپ میں نشاۃ ثانیہ ہوئی اور دنیا پھر سے مہذب اور تعلیم یافتہ ہو گئی۔ اس سارے عمل میں اسلامی تہذیب کا جو کردار تھا اس کا یہ ذکر نہیں کرتے۔

May 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *