ابراہیم المراشی کی جانب سے ایشیا ون کو دیے گئے ایک حالیہ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ کابل میں طالبان کی حکمرانی میں کمزوری نہ صرف افغانستان کے اندر عدم استحکام کو بڑھا رہی ہے بلکہ اس کے اثرات پورے خطے میں سلامتی کے خدشات کو جنم دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انتظامی کمزوری، معاشی دباؤ اور اندرونی بدامنی نے شدت پسند گروہوں کے لیے دوبارہ منظم ہونے کے مواقع پیدا کر دیے ہیں، جس سے افغانستان ایک بار پھر غیر محفوظ پناہ گاہ بنتا جا رہا ہے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں میں اضافہ افغانستان کے اندر بڑھتی ہوئی بے یقینی سے جڑا ہوا ہے۔ سرحد پار حملوں اور شدت پسند نیٹ ورکس کی نقل و حرکت نے پاکستان کے لیے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ صورتحال وسطی ایشیا تک پھیل سکتی ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ ازبکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے سخت گیر گروہ افغانستان میں دوبارہ منظم ہونے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران، خلیجی خطے اور دیگر ہمسایہ ریاستوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی مجموعی طور پر پورے خطے کو غیر مستحکم بنا رہی ہے، جس سے جنوب مغربی ایشیا ایک وسیع عدم تحفظ کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔
افغانستان کے اندرونی حالات، خصوصاً ہزارہ برادری جیسے اقلیتی گروہوں پر حملے، اس بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ انسانی صورتحال اور امن و امان کی بگڑتی کیفیت نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرے کی علامت بن چکی ہے۔
تجزیے کے مطابق 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک داخلی اور علاقائی استحکام کے حصول میں ناکامی نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خلا شدت پسند عالمی نیٹ ورکس کے لیے مواقع پیدا کر رہا ہے، جس سے افغانستان طویل مدت میں ایک بڑے بین الاقوامی خطرے کے مرکز کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔