ہنگو کے تل گُرگُری روڈ پر سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید جھڑپ، 3 دہشت گرد ہلاک۔ کے پی اور بلوچستان میں آپریشن العزم، الرصاد اور گرج کے تحت کارروائیاں جاری ہیں۔

August 7, 2026

بی بی سی کی ویب سائٹ پر مسلسل غیر اخلاقی مواد کی اشاعت کے خلاف علماء اور مذہبی حلقوں نے منبر و محراب سے آواز اٹھانے اور سائٹ کی بندش کا مطالبہ کیا ہ

August 7, 2026

احمد رضا قادری نے کہا کہ مہاجرین کی نمائندگی آزاد کشمیر کے آئینی نظام کا حصہ ہے، جبکہ جے اے اے سی کی مخالفت حقائق کے منافی ہے۔

August 7, 2026

ضلع کرم میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے درمیان خونریز تصادم میں تین جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں، کالعدم گروہ اب آپس میں ہی الجھ پڑے ہیں۔

August 7, 2026

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پر پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

August 7, 2026

سوات خودکش حملہ آور 2023 میں بریت کے بعد افغانستان فرار ہوا اور واپس آ کر دھماکا کیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ افغان سرزمین ہی دہشت گردوں کا ٹھکانہ ہے۔

August 7, 2026

مولوی عبداللہ کی کہانی اور افغانستان میں بڑھتی داعش کی سرگرمیاں؛ طالبان کے شدت پسند گروہوں کے خلاف متنازع کردار پر سنگین عالمی تحفظات

مقامی اطلاعات کے مطابق وہ 2021 کے بعد دوبارہ متحرک ہوئے اور ضلع منوگی، کنڑ میں اثر و رسوخ برقرار رکھا۔ 2023 کے موسمِ گرما میں کابل جاتے ہوئے طالبان نے انہیں گرفتار کیا، تاہم وہ صرف تین ہفتے حراست میں رہے۔ بعد ازاں مبینہ طور پر مالی ادائیگی اور طالبان صفوں میں موجود ہمدرد عناصر کی مدد سے رہائی حاصل کر لی۔
مولوی عبداللہ کی کہانی اور افغانستان میں بڑھتی داعش کی سرگرمیاں؛ طالبان کے شدت پسند گروہوں کے خلاف متنازع کردار پر سنگین عالمی تحفظات

مولوی عبداللہ کی کہانی اور افغانستان میں بڑھتی داعش کی سرگرمیاں؛ طالبان کے شدت پسند گروہوں کے خلاف متنازع کردار پر سنگین عالمی تحفظات

May 2, 2026

افغانستان میں اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے تقریباً پانچ سال بعد بھی زمینی حقائق اس دعوے کو چیلنج کر رہے ہیں کہ داعش خراسان کو مؤثر طور پر قابو کر لیا گیا ہے۔ تازہ فیلڈ ڈیٹا اور سیکیورٹی تجزیات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نہ صرف یہ تنظیم برقرار ہے بلکہ اس کی آپریشنل صلاحیت اور جغرافیائی پھیلاؤ میں اضافہ بھی ہوا ہے۔

کنڑ سے ابھرنے والا کردار: مولوی عبداللہ
اس تناظر میں کنڑ سے تعلق رکھنے والے داعش خراسان کے کمانڈر مولوی عبداللہ کا کیس خاص توجہ حاصل کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مولوی عبداللہ، جو 2018 تک داعش خراسان کے ایک گروپ کی قیادت کر چکے تھے، 2021 کے سیاسی انتقالِ اقتدار کے دوران بھی شدت پسند نیٹ ورکس میں سرگرم رہے۔

مقامی اطلاعات کے مطابق وہ 2021 کے بعد دوبارہ متحرک ہوئے اور ضلع منوگی، کنڑ میں اثر و رسوخ برقرار رکھا۔ 2023 کے موسمِ گرما میں کابل جاتے ہوئے طالبان نے انہیں گرفتار کیا، تاہم وہ صرف تین ہفتے حراست میں رہے۔ بعد ازاں مبینہ طور پر مالی ادائیگی اور طالبان صفوں میں موجود ہمدرد عناصر کی مدد سے رہائی حاصل کر لی۔

رہائی کے بعد سرگرمیاں اور جغرافیائی پھیلاؤ
مئی 2026 تک مولوی عبداللہ نہ صرف کنڑ میں ایک فعال کمانڈر کے طور پر کام کر رہے ہیں بلکہ جنوبی افغانستان، خصوصاً ہلمند میں بھی آپریشنل ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔ ان کا مختلف علاقوں میں متحرک رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ داعش خراسان کے کمانڈرز طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں بھی نقل و حرکت اور تنظیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
2024 سے 2026 کے اوائل تک کے تخمینوں کے مطابق داعش خراسان کے جنگجوؤں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اندازاً 6 ہزار سے بڑھ کر 10 ہزار تک پہنچنے والی یہ تعداد 12 ماہ کے عرصے میں 66 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ نہ صرف بھرتیوں میں کامیابی بلکہ تنظیم کی مستقل آپریشنل گہرائی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

طالبان کا بیانیہ اور زمینی حقیقت میں تضاد
طالبان قیادت مسلسل داعش خراسان کو ایک بیرونی طاقتوں کی حمایت یافتہ تنظیم قرار دیتی ہے، خصوصاً پاکستان پر الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ اس بیانیے کو تقویت دینے میں طالبان کے حامی ذرائع ابلاغ پلیٹ فارم “المِرصاد” بھی سرگرم ہے، جو خود کو ایک معلوماتی و تجزیاتی پلیٹ فارم کے طور پر پیش کرتا ہے۔

المِرصاد باقاعدگی سے داعش خراسان کو پاکستان سے منسلک کرنے کی کوشش کرتا ہے، طالبان کی کامیاب کارروائیوں کو نمایاں کرتا ہے اور داعش کی اپنی پروپیگنڈا مہم کو چیلنج کرتا ہے۔ تاہم ناقدین کے مطابق یہ بیانیہ زمینی حقائق کو کم تر ظاہر کرتا ہے، خاص طور پر ایسے کیسز میں جہاں درمیانی سطح کے کمانڈرز جیسے مولوی عبداللہ کی آزادانہ نقل و حرکت اور سرگرمیاں واضح طور پر موجود ہیں۔

سیکیورٹی ماہرین کی رائے
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2021 کے بعد افغانستان کا شدت پسند منظرنامہ ایک پیچیدہ اور تہہ دار نظام میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں نظریاتی رقابت کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر مفاہمت، غیر رسمی نیٹ ورکس اور منتخب عملداری بھی موجود ہے۔

2021 سے 2026 تک کے مختلف مراحل اقتدار کا استحکام، حکمرانی، اور موجودہ استحکام کے دعوے کے باوجود داعش خراسان کی مسلسل موجودگی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مسئلہ محض چند واقعات تک محدود نہیں بلکہ ساختی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔

عملداری یا مینجمنٹ؟
2026 تک مختلف علاقوں میں داعش خراسان کے کمانڈرز کی موجودگی اور سرگرمیاں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ طالبان کی انسداد دہشتگردی حکمت عملی مکمل خاتمے کے بجائے “انتظام” کے ماڈل پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف افغانستان کی داخلی سلامتی بلکہ خطے کے استحکام کے لیے بھی ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔

متعلقہ مضامین

ہنگو کے تل گُرگُری روڈ پر سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید جھڑپ، 3 دہشت گرد ہلاک۔ کے پی اور بلوچستان میں آپریشن العزم، الرصاد اور گرج کے تحت کارروائیاں جاری ہیں۔

August 7, 2026

بی بی سی کی ویب سائٹ پر مسلسل غیر اخلاقی مواد کی اشاعت کے خلاف علماء اور مذہبی حلقوں نے منبر و محراب سے آواز اٹھانے اور سائٹ کی بندش کا مطالبہ کیا ہ

August 7, 2026

احمد رضا قادری نے کہا کہ مہاجرین کی نمائندگی آزاد کشمیر کے آئینی نظام کا حصہ ہے، جبکہ جے اے اے سی کی مخالفت حقائق کے منافی ہے۔

August 7, 2026

ضلع کرم میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے درمیان خونریز تصادم میں تین جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں، کالعدم گروہ اب آپس میں ہی الجھ پڑے ہیں۔

August 7, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *