دفترِ خارجہ نے عید الفطر کے بعد سے افغان طالبان کی سرحد پار فائرنگ سے 52 پاکستانی شہریوں کی شہادت اور 84 کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

May 2, 2026

انگلش تہذیب کا یہ مغالطہ ختم نہیں ہو پا رہا ہے کہ وہی مہذب ترین ہے۔ تاریخ کا ان کا مبلغ فہم یہ ہے کہ رومن امپائر کے خاتنمے کے بعد دنیا تاریکیوں میں ڈوب گئی یہاں تک کہ پھر یورپ میں نشاۃ ثانیہ ہوئی اور دنیا پھر سے مہذب اور تعلیم یافتہ ہو گئی۔ اس سارے عمل میں اسلامی تہذیب کا جو کردار تھا اس کا یہ ذکر نہیں کرتے۔

May 2, 2026

فوزیہ کوفی نے طالبان کی جانب سے اپنے گھر پر قبضے اور رشتہ داروں سمیت بدخشان کے شہریوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ فعل قرار دے دیا ہے۔

May 2, 2026

بھارت کا “تنہا پاکستان” کا بیانیہ دم توڑ گیا۔ پاکستان نے کامیاب سول ملٹری ہم آہنگی اور متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے دوبارہ عالمی سفارتی مرکز میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔

May 2, 2026

پاکستان میں عسکری حملوں میں 42 فیصد کمی محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ‘آپریشن غضب للحق’ کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ ریاست کی زیرو ٹالرنس پالیسی نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مفلوج کر دیا ہے، تاہم مستقل امن کے لیے سیاسی و سماجی اصلاحات اور مسلسل چوکسی ناگزیر ہے۔

May 2, 2026

افغان طالبان نے لوگر تانبا منصوبے میں تاخیر پر چینی کمپنیوں سے ناراضگی کا اظہار کیا ہے، جبکہ کابل دھماکے کے بعد چینی باشندوں کی نقل و حرکت محدود کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

May 2, 2026

افغان فورسز کی بلااشتعال فائرنگ: عید کے بعد سے اب تک 52 پاکستانی شہری شہید، دفترِ خارجہ

دفترِ خارجہ نے عید الفطر کے بعد سے افغان طالبان کی سرحد پار فائرنگ سے 52 پاکستانی شہریوں کی شہادت اور 84 کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جارحیت؛ عید کے بعد سے اب تک 52 شہری شہید اور 84 زخمی۔ دفترِ خارجہ نے شہری آبادی پر اندھا دھند گولہ باری کی سخت مذمت کی ہے۔

May 2, 2026

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے جاری بلااشتعال جارحیت اور شہری آبادی کو دانستہ نشانہ بنانے کے ہولناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، 21 مارچ 2026 سے اب تک افغان طالبان کی جانب سے سرحد پار گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں 52 معصوم پاکستانی شہری شہید جبکہ 84 زخمی ہو چکے ہیں۔

امن کوششوں کی نفی اور مسلسل جارحیت

ذرائع کا کہنا ہے کہ مارچ 2026 میں پاکستان کی جانب سے خیر سگالی کے طور پر عسکری کارروائیوں میں وقفے کے باوجود، افغان طالبان نے اپنی اشتعال انگیزی میں کوئی کمی نہیں کی اور بغیر کسی روک ٹوک کے جارحانہ اقدامات جاری رکھے۔ یہ طرزِ عمل طالبان حکومت کی جانب سے علاقائی امن کی کوششوں سے مکمل لاتعلقی اور غیر ذمہ دارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

شہری آبادی پر حملے

رپورٹ کے مطابق، یہ واقعات محض چند اتفاقی یا الگ تھلگ حادثات نہیں ہیں، بلکہ یہ شہری آبادی کے خلاف ایک مسلسل مہم کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ افغان طالبان کی جانب سے معصوم شہریوں، گھروں اور آبادیوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ان حملوں کی بھاری انسانی قیمت ان خاندانوں کو چکانی پڑ رہی ہے جو اپنے پیاروں کی شہادتوں اور زخمی ہونے کے باعث کرب کا شکار ہیں۔

علاقائی عدم استحکام اور دہشت گردی کی سرپرستی

تجزیہ کاروں کے مطابق، طالبان حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی وعدوں کو پورا کرنے کے بجائے سرحد پار تشدد کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ معاند عناصر کو پناہ فراہم کرنا اور سرحد پر مسلح گروہ کی طرح رویہ اختیار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ کابل انتظامیہ ایک ذمہ دار حکومت کے بجائے تشدد کو ترجیح دے رہی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کے عدم استحکام کو مزید گہرا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

پاکستانی مؤقف

پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ طالبان کی جانب سے سفاکانہ طرزِ عمل اور معصوم شہریوں کو بار بار نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو پاکستان اپنے دفاع کے لیے تمام آپشنز استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ افغان طالبان خطے میں امن کے بجائے انتشار کے فروغ میں مصروف ہیں۔

متعلقہ مضامین

انگلش تہذیب کا یہ مغالطہ ختم نہیں ہو پا رہا ہے کہ وہی مہذب ترین ہے۔ تاریخ کا ان کا مبلغ فہم یہ ہے کہ رومن امپائر کے خاتنمے کے بعد دنیا تاریکیوں میں ڈوب گئی یہاں تک کہ پھر یورپ میں نشاۃ ثانیہ ہوئی اور دنیا پھر سے مہذب اور تعلیم یافتہ ہو گئی۔ اس سارے عمل میں اسلامی تہذیب کا جو کردار تھا اس کا یہ ذکر نہیں کرتے۔

May 2, 2026

فوزیہ کوفی نے طالبان کی جانب سے اپنے گھر پر قبضے اور رشتہ داروں سمیت بدخشان کے شہریوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ فعل قرار دے دیا ہے۔

May 2, 2026

بھارت کا “تنہا پاکستان” کا بیانیہ دم توڑ گیا۔ پاکستان نے کامیاب سول ملٹری ہم آہنگی اور متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے دوبارہ عالمی سفارتی مرکز میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔

May 2, 2026

پاکستان میں عسکری حملوں میں 42 فیصد کمی محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ‘آپریشن غضب للحق’ کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ ریاست کی زیرو ٹالرنس پالیسی نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مفلوج کر دیا ہے، تاہم مستقل امن کے لیے سیاسی و سماجی اصلاحات اور مسلسل چوکسی ناگزیر ہے۔

May 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *