پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے جاری بلااشتعال جارحیت اور شہری آبادی کو دانستہ نشانہ بنانے کے ہولناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، 21 مارچ 2026 سے اب تک افغان طالبان کی جانب سے سرحد پار گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں 52 معصوم پاکستانی شہری شہید جبکہ 84 زخمی ہو چکے ہیں۔
امن کوششوں کی نفی اور مسلسل جارحیت
ذرائع کا کہنا ہے کہ مارچ 2026 میں پاکستان کی جانب سے خیر سگالی کے طور پر عسکری کارروائیوں میں وقفے کے باوجود، افغان طالبان نے اپنی اشتعال انگیزی میں کوئی کمی نہیں کی اور بغیر کسی روک ٹوک کے جارحانہ اقدامات جاری رکھے۔ یہ طرزِ عمل طالبان حکومت کی جانب سے علاقائی امن کی کوششوں سے مکمل لاتعلقی اور غیر ذمہ دارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
🔊PR No.1️⃣1️⃣3️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) May 2, 2026
Statement by the Spokesperson
🔗⬇️ pic.twitter.com/Zwsoeh3MiM
شہری آبادی پر حملے
رپورٹ کے مطابق، یہ واقعات محض چند اتفاقی یا الگ تھلگ حادثات نہیں ہیں، بلکہ یہ شہری آبادی کے خلاف ایک مسلسل مہم کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ افغان طالبان کی جانب سے معصوم شہریوں، گھروں اور آبادیوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ان حملوں کی بھاری انسانی قیمت ان خاندانوں کو چکانی پڑ رہی ہے جو اپنے پیاروں کی شہادتوں اور زخمی ہونے کے باعث کرب کا شکار ہیں۔
علاقائی عدم استحکام اور دہشت گردی کی سرپرستی
تجزیہ کاروں کے مطابق، طالبان حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی وعدوں کو پورا کرنے کے بجائے سرحد پار تشدد کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ معاند عناصر کو پناہ فراہم کرنا اور سرحد پر مسلح گروہ کی طرح رویہ اختیار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ کابل انتظامیہ ایک ذمہ دار حکومت کے بجائے تشدد کو ترجیح دے رہی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کے عدم استحکام کو مزید گہرا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔
پاکستانی مؤقف
پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ طالبان کی جانب سے سفاکانہ طرزِ عمل اور معصوم شہریوں کو بار بار نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو پاکستان اپنے دفاع کے لیے تمام آپشنز استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ افغان طالبان خطے میں امن کے بجائے انتشار کے فروغ میں مصروف ہیں۔