افغانستان کی معروف خاتون سیاست دان فوزیہ کوفی نے طالبان کی جانب سے اپنے قریبی رشتہ داروں اور اہل خانہ پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور مبینہ سرکوبانہ اقدامات کے خلاف ایک باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق، فوزیہ کوفی نے الزام عائد کیا ہے کہ طالبان نے ان کے خلاف سیاسی انتقام کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ان کے قریبی افراد کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیا ہے۔
گھر پر قبضہ اور جبری بے دخلی
فوزیہ کوفی نے بتایا کہ تقریباً تین ماہ قبل طالبان نے ان کی ذاتی رہائش گاہ پر دھاوا بول کر اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کارروائی کے بعد وہاں مقیم ان کے خاندان کے افراد کو زبردستی بے دخل کر دیا گیا، جس کے بعد وہ دوسری جگہ منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔ فوزیہ کوفی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس وقت خاموشی اختیار کی تاکہ ان کی جدوجہد کو ذاتی مفاد کا رنگ نہ دیا جائے، بلکہ ان کا مقصد افغانستان کی مجموعی آزادی اور مستقبل ہے۔
اہل خانہ اور ہم وطنوں کی گرفتاری
اعلامیے کے مطابق، 28 اپریل بروز منگل طالبان نے فوزیہ کوفی کے خاندان کی نئی رہائش گاہ پر بھی حملہ کیا۔ اس کارروائی کے دوران نہ صرف ان کے رشتہ داروں کو حراست میں لیا گیا بلکہ بدخشان سے تعلق رکھنے والے ان عام شہریوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا جن کا فوزیہ کوفی سے کوئی خاندانی تعلق نہیں تھا۔ گرفتاری کے بعد سے اب تک ان افراد کے مقامِ منتقلی اور صحت کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
جدوجہد جاری رکھنے کا عزم
فوزیہ کوفی نے ان اقدامات کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ طالبان کی کمزوری اور تزلزل کی نشانی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغان خواتین کی جدوجہد نے موجودہ نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مقامی اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بازداشت شدہ افراد کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کریں۔
انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور افغانستان کی خواتین، آزادی، انصاف اور انسانی وقار کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی اور اس قسم کے ہتھکنڈے ان کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔