یہ دن ہمیں اس حقیقت کا احساس دلاتا ہے کہ آزاد اور ذمہ دار صحافت کسی بھی مضبوط جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ آزاد صحافت نہ صرف حکمرانوں کو جوابدہ بناتی ہے بلکہ عوامی شعور کو بیدار کرنے، حقائق کو سامنے لانے اور سچائی کی راہوں کو روشن کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
قابلِ اعتماد معلومات تک رسائی، مکالمے کا فروغ اور معاشرتی ہم آہنگی کے قیام میں میڈیا کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک آزاد میڈیا ہی معاشرے میں اعتماد، برداشت اور فکری توازن پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے جو نہ صرف نظام کی نگرانی کرتا ہے بلکہ عوام اور ایوانِ اقتدار کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار بھی ادا کرتا ہے۔
آزاد میڈیا امن، معاشی استحکام، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر صحافت آزاد نہ ہو تو سچ دب جاتا ہے، انصاف کمزور ہو جاتا ہے اور معاشرہ اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ اس حوالے سے قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ موجودہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے شہید والد خان عبدالصمد خان اچکزئی ان اولین شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے آزادیٔ صحافت اور جمہوری اقدار کے لیے طویل جدوجہد کی۔ انہوں نے برسوں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور بالآخر ایک بم دھماکے میں شہادت کا جام نوش کیا۔ ان کی زندگی جدوجہد، حوصلے اور سچ کے ساتھ وابستگی کی ایک روشن مثال ہے۔
موجودہ دور میں جہاں معلومات کی ترسیل پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے وہیں جھوٹی خبروں، منفی پروپیگنڈے اور مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال جیسے چیلنجز بھی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے میں صحافیوں پر ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ تحقیق، تصدیق اور غیر جانبداری کو اپنا شعار بنائیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں آزادیٔ صحافت مختلف دباؤ اور خطرات کا شکار ہے۔ پاکستان میں بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے صحافی مشکل ترین حالات میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ امن اور سچ کی خاطر درجنوں صحافی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ ان قربانیوں کو فراموش کرنا دراصل اپنی اجتماعی یادداشت سے ناانصافی کے مترادف ہوگا۔
صحافیوں کو درپیش خطرات، عدم تحفظ اور معاشی مشکلات فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ حکومت کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ آزادیٔ صحافت کو یقینی بنائے، صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور ان کے پیشہ ورانہ حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔
فرائض کی ادائیگی کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے صحافیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے خاندانوں کی کفالت بھی ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ ان کے لیے ماہانہ وظائف، رہائش کی سہولت اور بچوں کی تعلیم کے لیے وظائف فراہم کیے جانے چاہئیں تاکہ قربانی دینے والوں کے اہلِ خانہ تنہا محسوس نہ کریں۔
ذمہ دارانہ صحافت ہی حقیقی آزادیٔ صحافت کا بنیادی تقاضا ہے۔ صحافی اگر سچائی، دیانت اور پیشہ ورانہ اصولوں کو اپنا شعار بنائیں تو معاشرہ مثبت سمت میں آگے بڑھ سکتا ہے۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے صحافی نہایت کٹھن حالات میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ اس ضمن میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا یہ بیان اہمیت کا حامل ہے کہ سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے کے تدارک کے لیے پالیسی متعارف کرائی جا رہی ہے، جبکہ مثبت تنقید کو حکومتی اصلاح کا مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
قومی میڈیا کو چاہیے کہ وہ صرف جرائم کی خبروں تک محدود نہ رہے بلکہ سماجی مسائل، ترقیاتی امکانات اور مثبت پہلوؤں کو بھی اجاگر کرے۔ مزید برآں میڈیا ہاؤسز کی جانب سے بیورو دفاتر کی بندش اور عملے کی برطرفی جیسے اقدامات نہ صرف پیشہ ورانہ اصولوں کے خلاف ہیں بلکہ معلومات کی ترسیل کو بھی محدود کرتے ہیں۔
ڈیجیٹل دور میں خبروں کی تصدیق صحافیوں کی سب سے بڑی اخلاقی ذمہ داری بن چکی ہے۔ سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق قائم رکھنا ہی صحافت کی اصل روح ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ درجنوں صحافیوں نے قوم اور سچ کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا مگر افسوس کہ ان کے خاندان آج بھی بے سہارا ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست، میڈیا ادارے اور معاشرہ مل کر صحافیوں کی قربانیوں کا حقیقی اعتراف کریں اور ان کے لیے ایک محفوظ، باوقار اور مستحکم ماحول فراہم کریں۔
آزادیٔ صحافت صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے اور سچ پر مبنی رپورٹنگ ہی پاکستان کے روشن اور مستحکم مستقبل کی ضمانت ہے۔
دیکھئیے:صحافت کا عالمی دن: آزادی صحافت کے شور میں صحافیوں کے لیے موجود خطرات کا تدارک ضروری ہے