روسی صدر کا اپنے ہم منصب شی جن پنگ کے ملک کا یہ پچیسواں دورہ ہے، جو چین اور روس کے مابین “ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے معاہدے” کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے۔

May 19, 2026

عوام اب ان کھوکھلے نعروں، ٹک ٹاک کلپس اور سستی شہرت کے ڈراموں سے مکمل طور پر لاچار اور بیزار ہو چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا کو اس وقت کیمروں اور مسخروں کی نہیں بلکہ سنجیدہ منتظمین اور ترقی کی ضرورت ہے۔

May 19, 2026

نوشکی کے قریب بسوں سے اتار کر مسافروں کی ہلاکتیں، اور جعفر ایکسپریس کو 30 گھنٹے تک یرغمال بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ مہم آزادی کی نہیں بلکہ معصوم بلوچ عوام کے مستقبل کو تاریک کرنے کی سازش ہے۔

May 19, 2026

ان سوالات کا باقاعدہ جواب جمع کرانے کے لیے بھارت کو دو ماہ کا وقت دیتے ہوئے 16 دسمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، تاہم 155 دن گزرنے کے باوجود بھارت نے کوئی ٹھوس جواب جمع نہیں کروایا۔

May 19, 2026

مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف نے دونوں ممالک کے مابین گہرے تاریخی روابط پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات انتہائی مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر قائم ہیں۔

May 19, 2026

چائنا اکنامک نیٹ کی رپورٹ کے مطابق، 25 پاکستانی طلبہ کا ایک گروپ ایک سالہ تربیتی پروگرام کے لیے وسطی چین کے ‘وہان ووکیشنل ٹیکنیکل کالج’ پہنچ گیا ہے۔

May 19, 2026

گرینڈ حیات کیس: اشرافیہ کے مفادات اور قانونی گرفت

شاہراہِ دستور پر واقع ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کیس میں ریاست نے 14 ارب کے نادہندگان کے خلاف کاروائی کر کے واضح کیا کہ قانون اب اشرافیہ اور عام شہری کے لیے یکساں ہے۔
شاہراہِ دستور پر واقع ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کیس میں ریاست نے 14 ارب کے نادہندگان کے خلاف کارروائی کر کے واضح کیا کہ قانون اب اشرافیہ اور عام شہری کے لیے یکساں ہے۔

ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کیس میں 14 ارب کے نادہندگان کے خلاف کاروائی نے واضح کیا کہ قانون اب اشرافیہ پر بھی یکساں لاگو ہوتا ہے۔ معاملہ اس وقت مزید سنگین بن جاتا ہے جب اسے عمران خان سے جوڑا جاتا ہے، جہاں مبینہ رعایتی پینٹ ہاؤس مفادات کے ٹکراؤ کے سوالات اٹھاتا ہے۔

May 3, 2026

وفاقی دارالحکومت کی سب سے مہنگی زمین پر اس کہانی کا آغاز 2005 میں ہوا جب سی ڈی اے نے 13.5 ایکڑ اراضی فائیو اسٹار ہوٹل کے لیے بی این پی گروپ کو لیز پر دی۔ معاہدے کی بنیادی شرط یہ تھی کہ یہاں صرف ہوٹل بنے گا اور سروس اپارٹمنٹس کسی صورت رہائشی مقصد کے لیے فروخت نہیں ہوں گے۔ لیکن ڈویلپرز نے ریاست کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے اسے ایک غیر قانونی رہائشی اسکیم میں بدل دیا اور 263 لگژری فلیٹس بنا کر ملک کے طاقتور ترین طبقات کو فروخت کر دیے۔

مالی نادہندگی اور عدالتی فیصلے

مالی اعتبار سے یہ منصوبہ سراسر قومی خزانے پر بوجھ ثابت ہوا۔ 4.8 ارب روپے کی لیز پر محض 15 فیصد ادائیگی کی گئی اور بقیہ رقم کے لیے مسلسل ڈیفالٹ کا سہارا لیا گیا۔ اگرچہ 2019 میں سپریم کورٹ نے 17.5 ارب روپے کے عوض لیز بحالی کا ایک موقع دیا، مگر کمپنی آج بھی 14.5 ارب روپے کی نادہندہ ہے۔ اسی سنگین نادہندگی پر سی ڈی اے نے مارچ 2023 میں لیز منسوخ کی، جس پر اپریل 2026 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے تمام اپیلیں خارج کر کے حتمی مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔

ابصار عالم اور حقائق

پاکستان میں یہ روایت جڑ پکڑ چکی ہے کہ جب بھی قانون کی لاٹھی کسی بااثر شخص پر پڑتی ہے، تو اسے ‘سیاسی انتقام’ کا نام دے کر مظلومیت کا لبادہ اوڑھ لیا جاتا ہے۔ اس کیس میں صحافی ابصار عالم کا کردار بھی سوالیہ نشان ہے، جو خود اس عمارت میں فلیٹ کے مالک ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ عمارت میں 48 سفارت کار مقیم تھے اور یورپی ممالک نے ڈیمارش جاری کیا، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وہاں صرف 9 سفارت کار رہ رہے تھے۔ اسی طرح آپریشن میں رینجرز کے استعمال کا شوشہ چھوڑا گیا، حالانکہ رینجرز ریڈ زون کی حفاظت کے لیے وہاں ہمیشہ سے موجود ہوتی ہے۔

مفادات کا ٹکراؤ

ایک ایسی عمارت جس کی بنیاد ہی بددیانتی اور معاہدے کی سنگین خلاف ورزی پر ہو، اس کا دفاع کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ یہاں صاف نظر آتا ہے کہ ذاتی مفادات قانون کی بالادستی کے آڑے آ رہے ہیں۔ یہ طرزِ عمل اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے کہ بااثر طبقہ کس طرح حقائق کو مسخ کر کے اپنے غیر قانونی اثاثوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

ریحام خان کے انکشافات

اس اسکینڈل کے تانے بانے سابق وزیراعظم عمران خان سے بھی جا ملتے ہیں۔ ریحام خان کی کتاب کے مطابق عمران خان نے ڈویلپر عبدالحفیظ پاشا کے ساتھ خصوصی مراسم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صرف ایک کروڑ روپے میں یہاں پینٹ ہاؤس حاصل کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈویلپر نے دوسروں کی ساڑھے پانچ کروڑ روپے کی نقد پیشکشیں یہ کہہ کر ٹھکرا دیں کہ یہ ‘خاص رعایت’ صرف عمران بھائی کے لیے ہے، جو کھلم کھلا مفادات کے ٹکراؤ کا کیس ہے۔

غلط فہمی کا ازالہ

اسلام آباد کے باسیوں کے لیے یہ آپریشن ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ ماضی قریب میں بری امام، نورپور شاہاں اور سید پور میں غریبوں کے گھروں کو فورا سے پہلے ہی مسمار کر دیا گیا، جس سے یہ تاثر پختہ ہوا کہ قانون صرف کمزور کے لیے ہے۔ لیکن شاہراہِ دستور پر ریاست کے ہاتھ ڈالنے سے یہ تاثر اب دم توڑ چکا ہے۔

ریاستی موقف

یہ کاروائی کسی سیاسی انتقام کا نتیجہ نہیں بلکہ 14 ارب روپے کے عوامی واجبات کی وصولی کا قانونی مطالبہ ہے۔ ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ اب سیاسی مظلومیت کا چورن نہیں بکے گا اور نہ ہی کسی ادارے کی زیادتی کا واویلا چلے گا؛ یہ صرف اور صرف قانون کی حکمرانی کا عمل ہے۔

متعلقہ مضامین

روسی صدر کا اپنے ہم منصب شی جن پنگ کے ملک کا یہ پچیسواں دورہ ہے، جو چین اور روس کے مابین “ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے معاہدے” کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے۔

May 19, 2026

عوام اب ان کھوکھلے نعروں، ٹک ٹاک کلپس اور سستی شہرت کے ڈراموں سے مکمل طور پر لاچار اور بیزار ہو چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا کو اس وقت کیمروں اور مسخروں کی نہیں بلکہ سنجیدہ منتظمین اور ترقی کی ضرورت ہے۔

May 19, 2026

نوشکی کے قریب بسوں سے اتار کر مسافروں کی ہلاکتیں، اور جعفر ایکسپریس کو 30 گھنٹے تک یرغمال بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ مہم آزادی کی نہیں بلکہ معصوم بلوچ عوام کے مستقبل کو تاریک کرنے کی سازش ہے۔

May 19, 2026

ان سوالات کا باقاعدہ جواب جمع کرانے کے لیے بھارت کو دو ماہ کا وقت دیتے ہوئے 16 دسمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، تاہم 155 دن گزرنے کے باوجود بھارت نے کوئی ٹھوس جواب جمع نہیں کروایا۔

May 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *