وفاقی دارالحکومت کی سب سے مہنگی زمین پر اس کہانی کا آغاز 2005 میں ہوا جب سی ڈی اے نے 13.5 ایکڑ اراضی فائیو اسٹار ہوٹل کے لیے بی این پی گروپ کو لیز پر دی۔ معاہدے کی بنیادی شرط یہ تھی کہ یہاں صرف ہوٹل بنے گا اور سروس اپارٹمنٹس کسی صورت رہائشی مقصد کے لیے فروخت نہیں ہوں گے۔ لیکن ڈویلپرز نے ریاست کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے اسے ایک غیر قانونی رہائشی اسکیم میں بدل دیا اور 263 لگژری فلیٹس بنا کر ملک کے طاقتور ترین طبقات کو فروخت کر دیے۔
مالی نادہندگی اور عدالتی فیصلے
مالی اعتبار سے یہ منصوبہ سراسر قومی خزانے پر بوجھ ثابت ہوا۔ 4.8 ارب روپے کی لیز پر محض 15 فیصد ادائیگی کی گئی اور بقیہ رقم کے لیے مسلسل ڈیفالٹ کا سہارا لیا گیا۔ اگرچہ 2019 میں سپریم کورٹ نے 17.5 ارب روپے کے عوض لیز بحالی کا ایک موقع دیا، مگر کمپنی آج بھی 14.5 ارب روپے کی نادہندہ ہے۔ اسی سنگین نادہندگی پر سی ڈی اے نے مارچ 2023 میں لیز منسوخ کی، جس پر اپریل 2026 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے تمام اپیلیں خارج کر کے حتمی مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔
ابصار عالم اور حقائق
پاکستان میں یہ روایت جڑ پکڑ چکی ہے کہ جب بھی قانون کی لاٹھی کسی بااثر شخص پر پڑتی ہے، تو اسے ‘سیاسی انتقام’ کا نام دے کر مظلومیت کا لبادہ اوڑھ لیا جاتا ہے۔ اس کیس میں صحافی ابصار عالم کا کردار بھی سوالیہ نشان ہے، جو خود اس عمارت میں فلیٹ کے مالک ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ عمارت میں 48 سفارت کار مقیم تھے اور یورپی ممالک نے ڈیمارش جاری کیا، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وہاں صرف 9 سفارت کار رہ رہے تھے۔ اسی طرح آپریشن میں رینجرز کے استعمال کا شوشہ چھوڑا گیا، حالانکہ رینجرز ریڈ زون کی حفاظت کے لیے وہاں ہمیشہ سے موجود ہوتی ہے۔
مفادات کا ٹکراؤ
ایک ایسی عمارت جس کی بنیاد ہی بددیانتی اور معاہدے کی سنگین خلاف ورزی پر ہو، اس کا دفاع کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ یہاں صاف نظر آتا ہے کہ ذاتی مفادات قانون کی بالادستی کے آڑے آ رہے ہیں۔ یہ طرزِ عمل اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے کہ بااثر طبقہ کس طرح حقائق کو مسخ کر کے اپنے غیر قانونی اثاثوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ریحام خان کے انکشافات
اس اسکینڈل کے تانے بانے سابق وزیراعظم عمران خان سے بھی جا ملتے ہیں۔ ریحام خان کی کتاب کے مطابق عمران خان نے ڈویلپر عبدالحفیظ پاشا کے ساتھ خصوصی مراسم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صرف ایک کروڑ روپے میں یہاں پینٹ ہاؤس حاصل کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈویلپر نے دوسروں کی ساڑھے پانچ کروڑ روپے کی نقد پیشکشیں یہ کہہ کر ٹھکرا دیں کہ یہ ‘خاص رعایت’ صرف عمران بھائی کے لیے ہے، جو کھلم کھلا مفادات کے ٹکراؤ کا کیس ہے۔

غلط فہمی کا ازالہ
اسلام آباد کے باسیوں کے لیے یہ آپریشن ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ ماضی قریب میں بری امام، نورپور شاہاں اور سید پور میں غریبوں کے گھروں کو فورا سے پہلے ہی مسمار کر دیا گیا، جس سے یہ تاثر پختہ ہوا کہ قانون صرف کمزور کے لیے ہے۔ لیکن شاہراہِ دستور پر ریاست کے ہاتھ ڈالنے سے یہ تاثر اب دم توڑ چکا ہے۔
ریاستی موقف
یہ کاروائی کسی سیاسی انتقام کا نتیجہ نہیں بلکہ 14 ارب روپے کے عوامی واجبات کی وصولی کا قانونی مطالبہ ہے۔ ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ اب سیاسی مظلومیت کا چورن نہیں بکے گا اور نہ ہی کسی ادارے کی زیادتی کا واویلا چلے گا؛ یہ صرف اور صرف قانون کی حکمرانی کا عمل ہے۔