پاکستان کے خلاف ایک سوچی سمجھی اور منظم مہم کے تحت جبری گمشدگیوں کے معاملے کو بین الاقوامی سطح پر ملک کو بدنام کرنے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کچھ عناصر جن کا تعلق کالعدم تنظیموں اور بیرونی ممالک میں موجود پاکستان مخالف لابیوں سے ہے، اس مسئلے کو اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ جب ہم حقائق کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ لاپتہ افراد کا بیانیہ درحقیقت دہشت گردی کو جواز فراہم کرنے اور ریاست کو کمزور کرنے کی ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے بلکہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کے ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھانا اور ملک کے امن کو تہہ و بالا کرنا ہے۔ اس پروپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کو ریاست کے خلاف اکسایا جاتا ہے اور انہیں گمراہ کر کے تخریبی کارروائیوں کا ایندھن بنایا جاتا ہے۔
مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا نیٹ ورکس کا استعمال کرتے ہوئے اس بیانیے کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہوں۔ تاہم، زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدلیہ اس مسئلے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں اور انہوں نے اس ضمن میں ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ اس پروپیگنڈے کے پیچھے چھپے اصل چہروں اور ان کے مقاصد کو بے نقاب کیا جائے تاکہ دنیا کو پاکستان کے خلاف چلنے والے اس جھوٹے بیانیے کی حقیقت معلوم ہو سکے۔
لاپتہ افراد کے اعداد و شمار اور ریاستی شفافیت
کوئٹہ کی قائد اعظم یونیورسٹی کے ایک طالب علم کی جانب سے حکومتی رپورٹس اور کمیشن آف انکوائری کے اعداد و شمار کی تحقیق سے حقائق کا ایک نیا رخ سامنے آیا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ریاست اس حساس معاملے پر کتنی سنجیدگی اور ذمہ داری سے کام کر رہی ہے۔ عوامی سطح پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ریاست اس مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دے رہی، لیکن سرکاری ریکارڈ اس پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ مارچ 2011 سے اگست 2025 تک لاپتہ افراد کے تقریباً 10,618 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے ریاست 8,800 سے زائد کیسز کو نمٹا چکی ہے اور 6,800 سے زائد افراد کو ٹریس بھی کیا جا چکا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے اس پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں اور ہر سال آنے والے نئے کیسز کو بھی بڑی تعداد میں حل کیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے شفافیت کو مزید یقینی بنانے کے لیے 2026 میں ایسے ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں جن کے تحت ریاستی مراکز کو عدالتی نگرانی میں لایا گیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے اور وہ قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔ ان اعداد و شمار سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ لاپتہ افراد کے مسئلے کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت میں ریاستی ادارے ان گمشدہ افراد کی بازیابی اور ان کے خاندانوں کی داد رسی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
دہشت گردی اور لاپتہ افراد کا دوہرا کردار
یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ ماضی میں جن افراد کو جبری لاپتہ قرار دیا جاتا رہا، ان میں سے ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی تھی جو خود دہشت گرد تنظیموں میں شمولیت اختیار کر کے ریاست کے خلاف کارروائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کی واضح اور دردناک مثال سالم بلوچ کا کیس ہے، جو تربت کا رہائشی اور پنجاب یونیورسٹی کا گریجویٹ تھا۔ ان کی گمشدگی پر سوشل میڈیا پر ریاست کو مورد الزام ٹھہرایا گیا اور ایک طوفان کھڑا کیا گیا، لیکن فروری 2026 میں کالعدم بی ایل اے نے خود تصدیق کی کہ سالم بلوچ نومبر 2023 سے ان کے کیمپوں میں تربیت لے رہا تھا اور اس نے 31 جنوری کو ہونے والے دہشت گرد حملے میں 37 بے گناہ شہریوں کو شہید کیا۔ اس واقعے نے ان تمام لوگوں کے چہرے بے نقاب کر دیے ہیں جو اس پروپیگنڈے کو ہوا دے رہے تھے۔
اسی طرح، سائرہ بلوچ نے بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم میں اپنے بھائیوں کی گمشدگی کا الزام لگایا، لیکن تصاویر سامنے آئیں جن میں وہ بی ایل اے کے سربراہ اللہ نظر کے ساتھ موجود تھیں۔ اس کے علاوہ دیگر کیسز بھی منظرِ عام پر آئے ہیں جن میں کالعدم تنظیموں کے کمانڈرز اور تخریب کار، جیسے کہ کلات کے سہیب لانگو، گوادر کے کریم جان، اور نیول بیس حملے میں مارے جانے والا عبدالودود سکزئی شامل تھے۔ یہ سب نام نہاد لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھے لیکن حقیقت میں وہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے تھے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ لاپتہ افراد کے بیانیے کا استعمال دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
مالی مفادات اور بیرونی فنڈنگ کا نیٹ ورک
نام نہاد ایکٹوسٹس اور بیرونی ممالک میں بیٹھ کر پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنے والے عناصر اس صورتحال سے مالی اور سیاسی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ نورین بنگلزئی کا ایک ویڈیو بیان اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کس طرح بیرون ملک مقیم نعیمہ زہری نے انہیں اپنے بھائیوں کے نام لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے مالی لالچ دیا۔ یہ عناصر بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان کی سلامتی کے خلاف منفی مہم چلاتے ہیں اور مخصوص ایجنڈے کے تحت ریاست کو بدنام کرتے ہیں۔ ایسے عناصر کا مقصد مظلومیت کا ڈرامہ رچا کر اپنے مالی مفادات کا حصول ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ لوگ بیرونی فنڈنگ کے ذریعے اپنی عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں اور بلوچستان کے اصل مسائل کو نظر انداز کر کے پروپیگنڈا فیکٹریوں کو چلا رہے ہیں۔
اس پروپیگنڈے کے تانے بانے بین الاقوامی سطح پر جڑے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسے جعلی اکاؤنٹس اور مہمات کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کو تنہا کرنا اور اس کی معاشی و داخلی سلامتی کو نقصان پہنچانا ہے۔ ان عناصر کی کارروائیوں سے بلوچستان کے عام لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، بلکہ ان کے مسائل میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ عوام کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ نام نہاد حقوق کے علمبردار درحقیقت بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات کے لیے معصوم نوجوانوں کے جذبات کو استعمال کر رہے ہیں۔
ریاست کا عزمِ مصمم اور مستقبل کا لائحہ عمل
لاپتہ افراد کا معاملہ ایک انتہائی حساس اور جذباتی مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ریاست کو بہت احتیاط اور قانونی تقاضوں کے ساتھ آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ تاہم، اسے دہشت گردی کے لیے ڈھال بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ ریاستِ پاکستان اس مسئلے کے حل کے لیے پرعزم ہے اور قانون کی بالادستی کو ہر قیمت پر قائم رکھا جا رہا ہے۔ ریاستی ادارے ان خاندانوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں جن کے پیارے واقعتاً لاپتہ ہیں، لیکن وہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کی پردہ پوشی کی اجازت نہیں دے سکتے۔
ان تمام شواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ لاپتہ افراد کے نام پر چلنے والی مہم حقیقت میں ایک منظم پروپیگنڈا ہے جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانا ہے۔ پاکستان کے عوام کو ان سازشوں سے باخبر رہنا چاہیے اور اپنے ملک اور اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ وقت آ گیا ہے کہ ان عناصر کو بے نقاب کیا جائے جو معصوم لوگوں کے دکھ درد کو کاروبار بنا کر اپنی سیاست چمکاتے ہیں۔
دیکھئیے:باجوڑ: افغان فورسز کی بلااشتعال فائرنگ سے خواتین اور بچوں سمیت 9 شہری شہید، متعدد زخمی