افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے ضلع یحییٰ خیل سے ایک ایسا لرزہ خیز اور شرمناک فیصلہ سامنے آیا ہے جس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ قبائلی عمائدین اور نام نہاد معززین نے ایک مشترکہ فیصلے میں لڑکیوں کی “قیمت” تین لاکھ سے پانچ لاکھ روپے مقرر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے دور میں سامنے آیا ہے جب دنیا انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیتی ہے، مگر یہاں عورت کو بازار میں بکنے والی اشیاء کی طرح ایک “ریٹ لسٹ” کے تابع کر دیا گیا ہے۔
پشتون روایات پر دھبہ
یہ عمل نہ صرف انسانیت کی تذلیل ہے بلکہ پشتونوں کی غیرت مندانہ تاریخ اور روایات پر بھی ایک بدترین دھبہ ہے۔ پشتون ولی کی اصل روایات میں عورت گھر کی عزت ہوتی ہے، اسے بازار کے نرخوں پر تولنا پشتون ثقافت کی توہین ہے۔ عورت انسان ہے، اس کی اپنی ایک عزت ہے اور وہ کوئی بازار کی جنس نہیں کہ اس کی قیمتیں مقرر کی جائیں۔
د پکتیکا ولایت د یحیاخېلو ولسوالۍ قومي مشرانو او مخورو په یوه ګډه پرېکړه کې هوکړه کړې چې په دغه ولسوالۍ کې به له دې وروسته د پیغلې نجلۍ ولور ۳۰۰,۰۰۰ (درې لکه) او په بن د ورکړې ولور ۵۰۰,۰۰۰ (پنځه لکه) افغانۍ ووسي.
— ABN Pashto (@afbnpashto) May 3, 2026
په هغه سند کې چې په ټولنیزو رسنیو کې لاس په لاس کېږي، لسګونه قومي… pic.twitter.com/mdcAJdBsA3
طالبان کا ذہنی جمود
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ افغانستان میں جاری طالبان کے ذہنی جمود اور سختیوں کا شاخسانہ ہے۔ جہاں خواتین کی تعلیم اور بنیادی حقوق پر پہلے ہی پابندیاں عائد ہیں، وہاں اب ان کی حیثیت کو ایک “تجارتی شے” تک محدود کر دیا گیا ہے۔ یہ صورتحال طالبان انتظامیہ کی نااہلی اور معاشرتی انحطاط کو واضح کرتی ہے، جہاں انسانوں کی خرید و فروخت کو قبائلی فیصلوں کا لبادہ پہنایا جا رہا ہے۔
نفسیاتی غلامی کا آغاز
اس جاہلانہ رسم کے نتیجے میں جس عورت کو “قیمت” دے کر لایا جائے گا، اسے خاندان میں ایک انسان کے بجائے “خریدے ہوئے غلام” کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ یہ سوچ نہ صرف گھریلو تشدد کی راہ ہموار کرے گی بلکہ عورت کو نفسیاتی طور پر معاشرے سے الگ تھلگ کر دے گی۔
عالمی اداروں کا مجرمانہ سکوت
اس سنگین معاملے پر عالمی انسانی حقوق کے ادارے اور اقوامِ متحدہ کی خاموشی مجرمانہ معلوم ہوتی ہے۔ جب سرِ عام عورتوں کی قیمتیں مقرر کی جا رہی ہوں تو عالمی اداروں کی خاموشی غلط پیغام دیتی ہے۔ یہ فیصلہ براہِ راست “انسانی اسمگلنگ” اور “جدید غلامی” کی ایک شکل ہے جو عالمی چارٹر برائے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
بقا اور وقار کی جنگ
ماہرین کا کہنا ہے اس غیر معزز رسم کو ختم کریں اور اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو عزت، حقوق اور انسانیت کی نظر سے دیکھیں۔ یہ صرف ایک قبیلے یا علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانیت کے وقار اور عورت کے حقوق کی بقا کی جنگ ہے، جسے جیتنا ہر ذی شعور انسان کی ذمہ داری ہے۔