پاکستان قانونی اصولوں پر کاربند ہے، جبکہ بھارت کی یکطرفہ خاموشی اور عدم تعمیل ایک خطرناک نظیر قائم کر رہی ہے جو علاقائی آبی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔

May 4, 2026

طالبان کی موجودہ قیادت کی ساخت پر نظر ڈالی جائے تو یہ 85 سے 95 فیصد پشتونوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ 85 فیصد اہم وزارتیں بھی اسی مخصوص گروپ کے ہاتھ میں ہیں۔

May 4, 2026

یہ افراد طالبان کی سرپرستی میں نہ صرف اہم عہدوں پر براجمان ہیں بلکہ ریاستی پالیسی سازی اور حکومتی امور میں بھی ان کا کلیدی کردار ہے، جو کہ خطے کی سکیورٹی کے لیے ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔

May 4, 2026

کمپنی نے 2021 کی قسط تو جمع کرائی، تاہم 2022 کی قسط کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کیا۔ سی ڈی اے نے متعدد یاد دہانیوں کے بعد 7 فروری 2023 کو نوٹس اور پھر 8 مارچ کو لیز منسوخی کا حکم جاری کیا تھا۔

May 4, 2026

وزیراعظم آزاد کشمیر نے مزید کہا کہ حکومت نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا ہے۔ اس کے علاوہ نیو سٹی میرپور میں اضافی کنبہ جات کا مسئلہ بھی حل کیا جا چکا ہے۔

May 4, 2026

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے بزنس ٹو بزنس روابط کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ اس سے نہ صرف علاقائی معاشی رابطے بہتر ہوں گے بلکہ نجی شعبے کے درمیان بھی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔

May 4, 2026

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارتی و صنعتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے بزنس ٹو بزنس روابط کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ اس سے نہ صرف علاقائی معاشی رابطے بہتر ہوں گے بلکہ نجی شعبے کے درمیان بھی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔
پاکستان اور ازبکستان کا تعاون

دونوں فریقین نے فارماسیوٹیکل، چمڑے کی صنعت اور زرعی اجناس کے شعبوں کو مستقبل کے تعاون کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیا۔

May 4, 2026

اسلام آباد: پاکستان اور ازبکستان نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے اہم فیصلے کیے ہیں۔ اس عزم کا اظہار ہفتے کے روز اسلام آباد میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا گیا، جس میں تجارت، صنعت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

اجلاس کی صدارت وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور ازبکستان کے علاقے نوائی کے گورنر نورمت تورسونوف نے مشترکہ طور پر کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے، جن میں پاکستان کی جانب سے سیکریٹری صنعت و پیداوار اور فوڈ سیکیورٹی سیف انجم، ایڈیشنل سیکریٹری آصف سعید لغمانی، جوائنٹ سیکریٹری فریدون اکرم شیخ اور دیگر سینیئر افسران شامل تھے۔ جبکہ ازبک وفد میں سفیر علیشیر تختائیف، ڈپٹی گورنر ایلبیک غفاروف اور سفارتی اہلکار روشان جمانوف نے شرکت کی۔

ملاقات کے دوران ازبک وفد کی جانب سے پاکستان سے زندہ جانوروں کی برآمد سے متعلق ایک اہم تجویز پیش کی گئی جس پر تفصیلی غور کیا گیا۔ دونوں فریقین نے فارماسیوٹیکل، چمڑے کی صنعت اور زرعی اجناس کے شعبوں کو مستقبل کے تعاون کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ اس کے علاوہ، گوشت کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے اور تجارتی رکاوٹیں دور کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے بزنس ٹو بزنس روابط کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ اس سے نہ صرف علاقائی معاشی رابطے بہتر ہوں گے بلکہ نجی شعبے کے درمیان بھی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔ معاون خصوصی ہارون اختر خان نے ازبک وفد کو بتایا کہ حکومتِ پاکستان علاقائی رابطوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت بہت جلد ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے ازبکستان کا دورہ کرے گا۔

اجلاس کے اختتام پر معاون خصوصی ہارون اختر خان نے ازبک گورنر کو خیر سگالی کے طور پر تحفہ پیش کیا۔ دونوں اطراف سے باہمی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا جس سے دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا ایک نیا باب شروع ہوگا۔

دیکھئیے:آسٹریا کا ازبکستان کے راستے افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ

متعلقہ مضامین

پاکستان قانونی اصولوں پر کاربند ہے، جبکہ بھارت کی یکطرفہ خاموشی اور عدم تعمیل ایک خطرناک نظیر قائم کر رہی ہے جو علاقائی آبی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔

May 4, 2026

طالبان کی موجودہ قیادت کی ساخت پر نظر ڈالی جائے تو یہ 85 سے 95 فیصد پشتونوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ 85 فیصد اہم وزارتیں بھی اسی مخصوص گروپ کے ہاتھ میں ہیں۔

May 4, 2026

یہ افراد طالبان کی سرپرستی میں نہ صرف اہم عہدوں پر براجمان ہیں بلکہ ریاستی پالیسی سازی اور حکومتی امور میں بھی ان کا کلیدی کردار ہے، جو کہ خطے کی سکیورٹی کے لیے ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔

May 4, 2026

کمپنی نے 2021 کی قسط تو جمع کرائی، تاہم 2022 کی قسط کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کیا۔ سی ڈی اے نے متعدد یاد دہانیوں کے بعد 7 فروری 2023 کو نوٹس اور پھر 8 مارچ کو لیز منسوخی کا حکم جاری کیا تھا۔

May 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *