سوشل میڈیا پر پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین کی ایک حالیہ ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے جس میں ریاست اور قومی اداروں پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے متوازی انتظامی و عسکری ڈھانچہ قائم کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ دفاعی ماہرین اور آئینی مبصرین نے ان نکات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے انہیں حقائق کے منافی اور آئینِ پاکستان کے لیے ایک کھلا چیلنج قرار دیا ہے۔
نقل مکانی کی حقیقت
منظور پشتین کی جانب سے نقل مکانی کو نسلی بنیادوں پر نشانہ بنانے کے پراپیگنڈے کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز کا مقصد عسکریت پسندی اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مکمل خاتمہ تھا۔ ریاست نے ان آپریشنز کے دوران عام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو ترجیح دی اور بعد ازاں متاثرہ علاقوں کی بحالی و تعمیرِ نو کے لیے اربوں روپے کے خطیر فنڈز مختص کیے۔ وسائل پر قبضے کا بیانیہ بھی بے بنیاد ہے کیونکہ 18ویں ترمیم کے بعد قدرتی وسائل کی تقسیم مکمل طور پر آئینی اور صوبائی ڈھانچے کے تحت منظم ہے۔
ڈالر وار اور شہداء کی قربانیاں
سکیورٹی فورسز کی کاروائیوں کو “ڈالر وار” قرار دینا ان ہزاروں جوانوں اور شہریوں کی قربانیوں کی توہین ہے جنہوں نے وطنِ عزیز میں امن کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کیں۔ یہ جنگ کسی بیرونی ایجنڈے کا حصہ نہیں بلکہ اس دہشت گردی کے خلاف تھی جس نے برسوں تک پشتون عوام کا خون بہایا۔ یہ حقیقت بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ خود پشتون عمائدین اور امن کمیٹیوں نے شدت پسندوں کے مظالم سے تنگ آ کر ریاست سے فوجی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
آئین کے متوازی نظام کی کوشش
خیبر جرگہ کے نام پر 50 ایکڑ زمین پر نیشنل سینٹر کی قیام کی تجویز اور “اپنی آرمی” بنانے کا اعلان براہِ راست ریاستِ پاکستان کی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ آئینِ پاکستان کے تحت طاقت کے استعمال، قانون سازی اور نفاذ کا اختیار صرف منتخب اداروں کے پاس ہے۔ کسی بھی گروہ کو ذاتی ملیشیا بنانے کی اجازت دینا ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کی شعوری کوشش ہے، جسے کسی صورت قانونی تحفظ حاصل نہیں ہو سکتا۔
نمائندگی اور سیاسی شمولیت
پی ٹی ایم کا یہ دعویٰ کہ پشتونوں کو اداروں میں نمائندگی نہیں دی جا رہی، اعداد و شمار کے لحاظ سے غلط ہے۔ پاکستان کی فوج، بیوروکریسی اور عدلیہ سمیت تمام اہم ریاستی ستونوں میں پشتونوں کی بھرپور اور موثر نمائندگی موجود ہے۔ کسی بھی فرد یا تنظیم کے خلاف قانونی کارروائی کا محرک نسلی امتیاز نہیں بلکہ امنِ عامہ اور ریاست کی سیکیورٹی کو لاحق خطرات ہوتے ہیں۔
نتیجہ
پشتون عوام کے مسائل کا حل شاہراہیں بند کرنے، نسلی منافرت پھیلانے یا متوازی عسکری جتھے بنانے میں نہیں بلکہ بہتر گورننس، تعلیم اور معاشی ترقی میں ہے۔ استحکام کا واحد راستہ آئینِ پاکستان کی بالادستی اور قانون کی پاسداری میں پنہاں ہے، جبکہ جذباتی اور یک طرفہ بیانیہ صرف دشمن قوتوں کے مقاصد کو تقویت پہنچانے کا باعث بنتا ہے۔