کابل میں طالبان کے زیرِ اثر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں کی جانب سے ایک خاتون کو عوامی مقام پر برقع نہ پہننے پر تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک خاتون اہلکار نے مرد اہلکاروں کی موجودگی میں یہ کاروائی کی، جو طالبان حکومت کے تحت لباس کے ضوابط کے جبری نفاذ اور انسانی حقوق کی پامالی کی سنگین صورتحال کو ظاہر کرتی ہے۔
انسانی حقوق کی خلاف ورزی
انسانی حقوق کے ماہرین نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے شخصی آزادی اور انسانی وقار کے منافی قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی قدامت پسند معاشرے یا مذہبی نظام میں بھی لباس کے ضابطوں پر عمل درآمد کے لیے جسمانی تشدد کا استعمال ایک غیر منصفانہ اور انتہا پسندانہ اقدام ہے۔ لباس کے انتخاب کی بنیاد پر خواتین کی گرفتاری اور ان پر تشدد ان کے شخصی تحفظ کے بنیادی حق پر براہِ راست حملہ ہے۔
جبری اقدامات
کابل کی سڑکوں سے منظرِ عام پر آنے والی تصاویر میں افغان خواتین کے خلاف جاری سخت گیر اقدامات کی تشویشناک جھلک پیش کرتی ہیں۔ ان تصاویر میں سفید لباس اور ٹوپی میں ملبوس اہلکاروں کو برقع پوش خواتین کو جبری طور پر روک کر باز پرس کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جو وہاں کی روزمرہ زندگی میں پھیلے خوف اور دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
سماجی اثرات اور سیاسی ہتھیار
سماجی ماہرین کے مطابق،جبری طور پر نافذ کیے گئے یہ ضابطے قبولیت کے بجائے معاشرے میں خفیہ مزاحمت اور عوام و حکمران طبقے کے درمیان خلیج پیدا کر رہے ہیں۔ تجربات سے ثابت ہے کہ خواتین کی ظاہری وضع قطع پر ایسا سخت کنٹرول اکثر سماجی اصلاح کے بجائے سیاسی طاقت کے اظہار کا ایک ہتھیار ہوتا ہے۔
مستقبل کے خدشات
افغانستان میں اخلاقیات کے نفاذ کے ذمہ دار اداروں میں شفافیت اور آزاد نگرانی کا نظام موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے اختیارات کے غلط استعمال اور من مانی کارروائیوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر انسانی حقوق کی پامالی کا یہ سلسلہ جاری رہا، تو اس کے نتیجے میں افغانستان کی عالمی تنہائی میں مزید اضافہ، عوامی اعتماد کی مکمل پامالی اور شدید سماجی تناؤ جنم لے سکتا ہے۔