حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

September 25, 2026

شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کی ممکنہ منتقلی اور خصوصی تیاریوں سے متعلق مہر بخاری کا دعویٰ غلط اور بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔

September 25, 2026

سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے افغان شہریوں کی ہلاکت اور اسلحے کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا ہے۔

September 25, 2026

مشاہد حسین کا دعویٰ تاریخی شواہد کے منافی ہے۔ پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تربیت نہیں دی۔

September 25, 2026

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

September 24, 2026

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منشور میں پاک افغان سرحد سے متعلق بیانیے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

September 24, 2026

اگر طالبان رجیم ایک سال اور رہی تو افغانستان کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گا؛ ڈاکٹر ماریہ سلطان کا دعویٰ

ڈاکٹر ماریہ سلطان نے خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان نے اپنا طرزِ حکمرانی نہ بدلا اور ملک کو ترقی پسند بنیادوں پر استوار نہ کیا تو افغانستان نسلی بنیادوں پر تقسیم ہو سکتا ہے۔
معروف دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر ماریہ سلطان نے خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان نے اپنا طرزِ حکمرانی نہ بدلا اور ملک کو ترقی پسند بنیادوں پر استوار نہ کیا تو افغانستان نسلی بنیادوں پر تقسیم ہو سکتا ہے۔

کیا افغانستان نسلی بنیادوں پر تقسیم ہو جائے گا؟ ڈاکٹر ماریہ سلطان نے ایچ ٹی این کے ساتھ گفتگو میں طالبان کے طرزِ عمل کو ملک کے لیے خطرناک قرار دے دیا۔

May 7, 2026

دفاعی و تزویراتی ماہر ڈاکٹر ماریہ سلطان نے ایچ ٹی این سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر طالبان کا موجودہ طرزِ حکمرانی مزید ایک سال برقرار رہا، تو افغانستان کی جغرافیائی سالمیت شدید خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر ماریہ سلطان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست کی بقا تمام نسلی گروہوں کے حقوق تسلیم کرنے میں پنہاں ہے، بصورتِ دیگر ملک کے کئی حصوں میں تقسیم ہونے کا خدشہ ٹالا نہیں جا سکے گا۔

نسلی تنوع

ڈاکٹر ماریہ سلطان کے مطابق افغانستان کا تاریخی پس منظر یہ رہا ہے کہ وہاں کے مختلف نسلی گروہ طالبان کے ابھرنے سے بہت پہلے سے مختلف سکیورٹی ڈھانچوں کا حصہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر طالبان حکومت نے اس حقیقت کو نظر انداز کرنا جاری رکھا کہ افغانستان میں موجود تمام گروہوں کو زندگی گزارنے اور ریاست کا حصہ بننے کا برابر حق حاصل ہے، تو صورتحال قابو سے باہر ہو جائے گی۔

ترقی پسند حکومت کی ضرورت

تجزیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ افغان ریاست کو جدید اور ترقی پسند بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے باقاعدہ ڈھانچے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر طالبان حکومت نے شمولیت پر مبنی سیاسی نظام اور انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی پالیسیاں واضح نہ کیں تو اندرونی خلفشار نسلی گروہوں کے درمیان ٹکراؤ کا باعث بنے گا، جس کا حتمی نتیجہ ملک کی تقسیم کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

ڈاکٹر ماریہ سلطان کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر بھی طالبان پر ایک ہمہ گیر اور نمائندہ حکومت بنانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر نسلی بنیادوں پر موجود عدم اطمینان کو دور نہ کیا گیا تو افغانستان میں ایک نیا خانہ جنگی کا دور شروع ہو سکتا ہے جو نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔

متعلقہ مضامین

حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

September 25, 2026

شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کی ممکنہ منتقلی اور خصوصی تیاریوں سے متعلق مہر بخاری کا دعویٰ غلط اور بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔

September 25, 2026

سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے افغان شہریوں کی ہلاکت اور اسلحے کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا ہے۔

September 25, 2026

مشاہد حسین کا دعویٰ تاریخی شواہد کے منافی ہے۔ پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تربیت نہیں دی۔

September 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *