دفاعی و تزویراتی ماہر ڈاکٹر ماریہ سلطان نے ایچ ٹی این سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر طالبان کا موجودہ طرزِ حکمرانی مزید ایک سال برقرار رہا، تو افغانستان کی جغرافیائی سالمیت شدید خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر ماریہ سلطان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست کی بقا تمام نسلی گروہوں کے حقوق تسلیم کرنے میں پنہاں ہے، بصورتِ دیگر ملک کے کئی حصوں میں تقسیم ہونے کا خدشہ ٹالا نہیں جا سکے گا۔
نسلی تنوع
ڈاکٹر ماریہ سلطان کے مطابق افغانستان کا تاریخی پس منظر یہ رہا ہے کہ وہاں کے مختلف نسلی گروہ طالبان کے ابھرنے سے بہت پہلے سے مختلف سکیورٹی ڈھانچوں کا حصہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر طالبان حکومت نے اس حقیقت کو نظر انداز کرنا جاری رکھا کہ افغانستان میں موجود تمام گروہوں کو زندگی گزارنے اور ریاست کا حصہ بننے کا برابر حق حاصل ہے، تو صورتحال قابو سے باہر ہو جائے گی۔
ترقی پسند حکومت کی ضرورت
تجزیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ افغان ریاست کو جدید اور ترقی پسند بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے باقاعدہ ڈھانچے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر طالبان حکومت نے شمولیت پر مبنی سیاسی نظام اور انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی پالیسیاں واضح نہ کیں تو اندرونی خلفشار نسلی گروہوں کے درمیان ٹکراؤ کا باعث بنے گا، جس کا حتمی نتیجہ ملک کی تقسیم کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ
ڈاکٹر ماریہ سلطان کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر بھی طالبان پر ایک ہمہ گیر اور نمائندہ حکومت بنانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر نسلی بنیادوں پر موجود عدم اطمینان کو دور نہ کیا گیا تو افغانستان میں ایک نیا خانہ جنگی کا دور شروع ہو سکتا ہے جو نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔