میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے معرکۂ حقکو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر اہم پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کو ایک سال بیت جانے کے باوجود بھارت آج تک کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال اٹھایا کہ اگر بھارتی انٹیلی جنس اتنی ہی مؤثر تھی تو سینکڑوں کلومیٹر اندر ہونے والے واقعے کی پیشگی اطلاع کیوں نہ مل سکی؟ انہوں نے واضح کیا کہ معرکۂ حق کے بعد بھارت کا دہائیوں پرانا دہشت گردی کا “ڈرامہ” اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔
پاکستان کا ذمہ دارانہ طرزِ عمل
احمد شریف چوہدری نے کہا کہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے انتہائی ذمہ داری اور تحمل کا مظاہرہ کیا تاکہ صورتحال مزید خطرناک نہ ہو۔ انہوں نے بھارتی عسکری قیادت کے سیاسی رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں فوجی قیادت اپنے سیاسی آقاؤں کے بیانیے کو فروغ دیتی رہی، جبکہ پاکستان کی مسلح افواج نے مکمل پیشہ ورانہ انداز اپنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت خود کو خطے کا نیٹ “سکیورٹی پرووائیڈر” ظاہر کرنے کی کوشش کرتا رہا، لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ حقیقت میں خطے کا استحکام کس کی ترجیح ہے۔
جدید جنگ کے بدلتے پہلو
ڈی جی آئی ایس پی آر نے جدید جنگی حکمتِ عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کی جنگ صرف روایتی سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ سائبر، انفارمیشن وار فیئر اور انسانی ذہنوں تک پھیل چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان نے ان تمام کثیر جہتی چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ہر میدان میں اپنی برتری ثابت کی۔ انہوں نے دوٹوک پیغام دیا کہ پاکستان کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
افغانستان میں دہشتگرد نیٹ ورکس
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں کی نشاندہی کی اور ان کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے تانے بانے افغان سرزمین کے استعمال سے جڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی کوششوں کو ترجیح دی اور یہ مؤقف اپنایا کہ کسی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ ان کے مطابق پاکستان کی کاروائیوں سے خطے میں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوئی اور طاقت کا توازن بھی متاثر ہوا۔
بھارت کے اندرونی حالات اور تضادات
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بھارت کے داخلی مسائل اور اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کا تذکرہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے اندرونی خلفشار، منی پور کی صورتحال اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر الزامات کی سیاست کرتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ معرکہ حق کے دوران جب بھارت کو ہزیمت اٹھانا پڑی تو اس نے نام نہاد افغان حکام کے ذریعے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی، جو ہندوتوا اور انتہاپسند گروہوں کے گٹھ جوڑ کو ظاہر کرتا ہے۔
قومی اتحاد اور مستقبل کا عزم
آخر میں انہوں نے قوم کے اتحاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق نے ثابت کیا کہ پوری قوم، قیادت اور افواج ایک صفحے پر ہیں۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، لیکن اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر وقت مستعد اور تیار ہے۔