تاجکستان کے صوبہ صغد میں مقیم افغان مہاجرین کے خلاف ایک اچانک اور بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق قریباً 200 سے 250 افغان مہاجرین کو زبردستی ان کے گھروں سے نکالا گیا اور حکومتی اہلکاروں کی نگرانی میں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس اچانک کاروائی نے تاجکستان میں مقیم افغان باشندوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
فوجداری مقدمہ
رپورٹ کے مطابق مہاجرین کے خلاف اس سخت انتظامی اقدام کا پس منظر صوبہ خجند میں پیش آنے والا ایک مجرمانہ واقعہ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایک خاتون کے قتل کے شبہ میں ایک افغان شہری کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کے فوری بعد مقامی انتظامیہ نے پورے علاقے میں موجود افغان مہاجرین کے خلاف تادیبی کاروائی کا آغاز کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد کو ان کے گھروں سے نکالنے کا مقصد بظاہر سکیورٹی اقدامات بتائے جا رہے ہیں، تاہم مہاجرین میں اسے انتقامی کاروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
جبری بے دخلی کے خدشات
اگرچہ تاجک حکام کی جانب سے ان افراد کی حتمی منزل کے بارے میں کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم بعض غیر مصدقہ اطلاعات اور مقامی ذرائع یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ ان تمام افراد کو تاجکستان سے بے دخل کر کے واپس افغانستان روانہ کر دیا گیا ہے۔ اگر ان اطلاعات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ بین الاقوامی قوانین کے تحت پناہ گزینوں کے حقوق کی ایک بڑی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔
طالبان حکومت کا مؤقف
اس سنگین معاملے اور اپنے شہریوں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی پر امارتِ اسلامیہ افغانستان کے حکام کی جانب سے اب تک کوئی باقاعدہ ردعمل یا تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ افغان وزارتِ خارجہ کی اس خاموشی پر مہاجرین کے خاندانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے، جو اپنے پیاروں کی سلامتی اور موجودہ لوکیشن کے بارے میں سخت پریشان ہیں۔