افغانستان فریڈم فرنٹ نے کابل میں طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف کے اہلکاروں کی گاڑی پر حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے 2 اہلکاروں کی ہلاکت اور 2 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

June 23, 2026

افغانستان کے صوبہ بدخشان میں طالبان نے ترک النسل اقوام کی حمایت اور ہرات مظاہروں سے اظہارِ یکجہتی کے الزام میں ازبک ثقافتی کارکن مسعود تیمور کو گرفتار کر لیا۔

June 23, 2026

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے یوکرین کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی، امریکی سہولت کاری سے مذاکرات کی بحالی اور سویلین آبادی کے تحفظ کا مطالبہ کر دیا ہے۔

June 23, 2026

وانا میں فتنہ الخوارج نے توجی خیل قبیلے کی 4 گاڑیوں پر قبضہ کر کے متعدد خاندانوں کو زبردستی بے دخل کر دیا، جس سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

June 22, 2026

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک 677 افغان صحافی ملک چھوڑ کر مختلف ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد صحافی اب بھی حراست میں ہیں۔

June 22, 2026

امریکہ اور ایران مذاکرات میں پیش رفت کے بعد عالمی منڈیوں میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، خام تیل سستا جبکہ متعدد اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی۔

June 22, 2026

تاجکستان میں افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن، سینکڑوں افراد گھروں سے بے دخل اور نامعلوم مقام پر منتقل

تاجکستان کے صوبہ صغد میں 250 کے قریب افغان مہاجرین کو کریک ڈاؤن کے دوران گھروں سے نکال کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
تاجکستان کے صوبہ صغد میں مقیم 200 سے زائد افغان مہاجرین کو ان کی رہائش گاہوں سے نکال کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایک خاتون کے قتل کے الزام میں افغان شہری کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئی ہے

خجند میں ایک قتل کے شبے میں افغان شہری کی گرفتاری کے بعد انتظامیہ نے افغان مہاجرین کے خلاف کاروائی شروع کر دی، جسے سکیورٹی اقدام کہا جا رہا ہے۔

May 7, 2026

تاجکستان کے صوبہ صغد میں مقیم افغان مہاجرین کے خلاف ایک اچانک اور بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق قریباً 200 سے 250 افغان مہاجرین کو زبردستی ان کے گھروں سے نکالا گیا اور حکومتی اہلکاروں کی نگرانی میں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس اچانک کاروائی نے تاجکستان میں مقیم افغان باشندوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

فوجداری مقدمہ

رپورٹ کے مطابق مہاجرین کے خلاف اس سخت انتظامی اقدام کا پس منظر صوبہ خجند میں پیش آنے والا ایک مجرمانہ واقعہ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایک خاتون کے قتل کے شبہ میں ایک افغان شہری کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کے فوری بعد مقامی انتظامیہ نے پورے علاقے میں موجود افغان مہاجرین کے خلاف تادیبی کاروائی کا آغاز کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد کو ان کے گھروں سے نکالنے کا مقصد بظاہر سکیورٹی اقدامات بتائے جا رہے ہیں، تاہم مہاجرین میں اسے انتقامی کاروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

جبری بے دخلی کے خدشات

اگرچہ تاجک حکام کی جانب سے ان افراد کی حتمی منزل کے بارے میں کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم بعض غیر مصدقہ اطلاعات اور مقامی ذرائع یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ ان تمام افراد کو تاجکستان سے بے دخل کر کے واپس افغانستان روانہ کر دیا گیا ہے۔ اگر ان اطلاعات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ بین الاقوامی قوانین کے تحت پناہ گزینوں کے حقوق کی ایک بڑی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔

طالبان حکومت کا مؤقف

اس سنگین معاملے اور اپنے شہریوں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی پر امارتِ اسلامیہ افغانستان کے حکام کی جانب سے اب تک کوئی باقاعدہ ردعمل یا تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ افغان وزارتِ خارجہ کی اس خاموشی پر مہاجرین کے خاندانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے، جو اپنے پیاروں کی سلامتی اور موجودہ لوکیشن کے بارے میں سخت پریشان ہیں۔

متعلقہ مضامین

افغانستان فریڈم فرنٹ نے کابل میں طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف کے اہلکاروں کی گاڑی پر حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے 2 اہلکاروں کی ہلاکت اور 2 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

June 23, 2026

افغانستان کے صوبہ بدخشان میں طالبان نے ترک النسل اقوام کی حمایت اور ہرات مظاہروں سے اظہارِ یکجہتی کے الزام میں ازبک ثقافتی کارکن مسعود تیمور کو گرفتار کر لیا۔

June 23, 2026

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے یوکرین کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی، امریکی سہولت کاری سے مذاکرات کی بحالی اور سویلین آبادی کے تحفظ کا مطالبہ کر دیا ہے۔

June 23, 2026

وانا میں فتنہ الخوارج نے توجی خیل قبیلے کی 4 گاڑیوں پر قبضہ کر کے متعدد خاندانوں کو زبردستی بے دخل کر دیا، جس سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

June 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *