چھ اور سات مئی کی درمیانی شب، جب برصغیر کی فضا پر خاموشی کا راج تھا اور سرحد کے دونوں جانب لوگ اپنے گھروں میں آسودہ سو رہے تھے، جنوبی ایشیا ایک ایسے موڑ پر کھڑا تھا جس نے خطے کی تزویراتی حقیقت کو ہمیشہ کے لیے بدل دینا تھا۔ اسی رات بھارت نے “ پہلگام فالس فلیگ” کو جواز بناتے ہوئے پاکستان کے مختلف علاقوں پر میزائل حملے کیے۔ ان حملوں میں نہ صرف عام شہری نشانہ بنے بلکہ مساجد اور مدارس تک محفوظ نہ رہے۔ اسلام آباد سے لے کر سرحدی علاقوں تک فضا میں ایک غیر یقینی خوف پھیل گیا۔
یہ وہ پاکستان تھا جسے صرف چند ماہ قبل عالمی مالیاتی بحران، سیاسی انتشار اور سفارتی تنہائی کا شکار ملک سمجھا جا رہا تھا۔ عالمی میڈیا میں پاکستان کو اکثر ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا جاتا تھا جو معاشی دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا ہے۔ دوسری جانب بھارت خود کو خطے کی ابھرتی ہوئی بلا مقابلہ طاقت سمجھنے لگا تھا۔ نئی دہلی میں شاید یہ یقین پیدا ہو چکا تھا کہ پاکستان اب نہ سیاسی طور پر اتنا مستحکم رہا ہے، نہ معاشی طور پر اور نہ عسکری طور پر کہ وہ کسی بڑے حملے کا جواب دے سکے۔
مگر تاریخ اکثر انہی لمحوں میں اپنا رخ بدلتی ہے جب طاقتور اپنی طاقت کو ناقابل شکست سمجھنے لگتے ہیں۔
بھارت کے عسکری منصوبہ سازوں نے شاید اندازہ نہیں کیا تھا کہ پاکستان کے خاموش آسمانوں میں شاہین ابھی زندہ ہیں۔ جیسے ہی بھارتی فضائیہ کے جنگی جہاز پاکستانی حدود کی جانب بڑھے، فضا میں ایک ایسی لڑائی شروع ہوئی جسے عسکری ماہرین آنے والے برسوں تک جدید فضائی جنگ کی ایک مثال کے طور پر یاد رکھیں گے۔
چند گھنٹوں کے اندر صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی تھی۔ پاکستان نے نہ صرف بھارتی فضائی حملے کو ناکام بنایا بلکہ دشمن کے چار جدید ترین رافیل طیاروں سمیت آٹھ جنگی جہاز مار گرائے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ پاکستان کا ایک بھی طیارہ تباہ نہ ہوا۔ اس رات صرف میزائل اور جہاز نہیں گرے تھے، بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن سے متعلق کئی دیرینہ تصورات بھی زمین بوس ہو گئے تھے۔
بھارت کے لیے یہ محض عسکری نقصان نہیں تھا، بلکہ نفسیاتی دھچکا بھی تھا۔ رافیل طیارے، جنہیں نئی دہلی اپنی فضائی برتری کی علامت سمجھتا تھا، چند گھنٹوں میں ایک ایسے سوال میں بدل گئے جس کا جواب خود بھارتی میڈیا کے پاس بھی نہ تھا۔
لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔
صرف تین دن بعد پاکستان نے وہ قدم اٹھایا جس کا شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ فیلڈ مارشل نے فجر کی نماز کی امامت کی اور سورہ الصف کی تلاوت کی۔ اسی سورہ کی آیت سے ”بنیان مرصوص” لفظ کا انتخاب کیا اور بھارت کے خلاف تاریخ ساز آپریشن شروع کر دیا۔ پاکستانی افواج نے بھارت کے اندر جا کر 26 فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی محدود ضرور تھی مگر اس کے سیاسی اور نفسیاتی اثرات غیر معمولی تھے۔ عالمی اداروں، سفارتی ذرائع اور بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے بھی اس حقیقت کی تصدیق کی کہ پاکستان نے دشمن کو ایسا تسلی بخش جواب دیا کہ اس کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔
کہا جاتا ہے کہ جنگ صرف میدان میں نہیں جیتی جاتی بلکہ اعصاب، سفارت کاری اور بیانیے میں بھی لڑی جاتی ہے۔ یہی وہ مقام تھا جہاں پاکستان نے خود کو صرف ایک عسکری طاقت کے طور پر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کیا۔ شدید جوابی کارروائی کے باوجود اسلام آباد نے مسلسل یہی مؤقف اختیار کیا کہ وہ خطے میں مکمل جنگ نہیں چاہتا۔
بھارت، جو چند روز قبل خود کو خطے کی بلا شرکت غیرے طاقت سمجھ رہا تھا، اچانک جنگ بندی کی اپیلوں کی جانب بڑھنے لگا۔ اطلاعات کے مطابق صورتحال اس حد تک کشیدہ ہو چکی تھی کہ محض دو گھنٹوں کے اندر عالمی سفارتی رابطے متحرک ہو گئے۔ دنیا کو پہلی بار احساس ہوا کہ جنوبی ایشیا میں جنگ اب محض روایتی سرحدی تصادم نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسا تصادم بن سکتی ہے جس کے اثرات عالمی معیشت، تجارت اور سلامتی تک پھیل سکتے ہیں۔ دو گھنٹے میں بھارت نے گھٹنے ٹیک دیے اور شکست تسلیم کرتے ہوئے جنگ بندی پر آمادہ ہو گیا۔
آج اس بحران کے کچھ عرصے بعد منظر نامہ حیران کن حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ بھارت، جو خود کو خطے کا واحد فیصلہ ساز سمجھتا تھا، سفارتی سطح پر تنہائی سے دوچار ہے، جبکہ پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرا ہے جو نہ صرف اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ آج دنیا میں امن کا ضامن بھی ہے۔
یہ جنگ شاید صرف چند دن جاری رہی، مگر اس نے جنوبی ایشیا کے طاقت کے توازن، عسکری حکمت عملی اور عالمی سفارت کاری کے کئی اصول بدل دیے۔ اور شاید تاریخ اسے صرف ایک جنگ کے طور پر نہیں، بلکہ اُس لمحے کے طور پر یاد رکھے گی جب ایک خاموش سمجھا جانے والا ملک پوری دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوا کہ طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں، حوصلے، حکمت اور اپنے وجود اور نظریے کے دفاع کے یقین میں بھی ہوتی ہے۔