بنوں: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز کے حالیہ آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی شناخت کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں سے ایک کی شناخت فتح اللہ عرف مدثر کے نام سے ہوئی ہے، جو افغانستان کی وزارتِ داخلہ کے ماتحت کام کرنے والے اسپیشل فورسز یونٹ ‘یرموک 60’ کا سرگرم رکن تھا۔
تفصیلات کے مطابق، 9 اپریل کو بنوں میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا تھا، جس میں تحریک طالبان پاکستان کے متعدد دہشت گرد مارے گئے تھے۔ ہلاک ہونے والے فتح اللہ کا تعلق افغانستان کے صوبہ پکتیا کے ضلع زرمت سے تھا اور اس کا افغان سرکاری فورسز کا حصہ ہونا اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ افغان سرزمین اور وہاں کا سرکاری ڈھانچہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے براہ راست استعمال ہو رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان اسپیشل فورسز کے اہلکار کا ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر پاکستانی حدود میں لڑنا محض ‘انفرادی فعل’ نہیں بلکہ یہ کابل کے ان دعوؤں کی نفی ہے کہ وہ اپنی زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کو نہ صرف پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ انہیں تربیت یافتہ افرادی قوت اور آپریشنل گہرائی بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق، 2025 اور 2026 میں سرحد پار سے ہونے والے حملوں میں شدت اور افغان اہلکاروں کی ان کارروائیوں میں موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ افغان طالبان کے زیرِ اثر سرکاری عناصر اور دہشت گرد پراکسیز کے درمیان گہرا گٹھ جوڑ موجود ہے۔ پاکستان نے اس حوالے سے متعدد بار عالمی سطح پر آواز اٹھائی ہے کہ کابل اپنی صفوں میں موجود ایسے عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے جو علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔