واشنگٹن: امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی ایک حالیہ خفیہ رپورٹ نے ایران کی معاشی صورتحال اور دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں کو شدید طور پر چیلنج کر دیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، سی آئی اے نے پالیسی سازوں کو آگاہ کیا ہے کہ ایران امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود مزید تین سے چار ماہ تک باآسانی اپنی معیشت برقرار رکھ سکتا ہے، جو کہ ٹرمپ کے ‘فوری معاشی تباہی’ کے دعوؤں کے بالکل برعکس ہے۔
خفیہ رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی ہفتوں سے جاری بمباری کے باوجود ایران اپنی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کا 70 فیصد حصہ محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا ہے، جبکہ اس کے پاس اب بھی 75 فیصد موبائل لانچرز موجود ہیں۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنے زیرِ زمین سٹوریج مراکز کو بحال کر لیا ہے اور وہ نہ صرف خراب میزائلوں کی مرمت کر رہا ہے بلکہ نئے میزائل بھی تیار کر رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار صدر ٹرمپ کے ان بیانات کی نفی کرتے ہیں جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی معیشت مفلوج ہو چکی ہے اور ان کے پاس فوجیوں کو تنخواہیں دینے کے پیسے بھی نہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنی معاشی بقا کے لیے متبادل راستے ڈھونڈ لیے ہیں، جس میں خام تیل کو ٹینکرز میں ذخیرہ کرنا اور وسطی ایشیا کے راستے ریل کے ذریعے تیل کی سمگلنگ شامل ہے۔ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کی حمایت ختم ہونے کے بعد ‘پراجیکٹ فریڈم’ کو روک دیا ہے۔ سی آئی اے کے مطابق، ایران کی معیشت اتنی ابتر نہیں جتنی دکھائی جا رہی ہے، اور وہ ناکہ بندی کے اثرات کو مزید 90 سے 120 دن تک جھیلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
دیکھئیے:بھارت کا دہشت گردی بیانیہ دفن، معرکۂ حق میں پاکستان نے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا: ڈی جی آئی ایس پی آر