افغان پلیٹ فارم المرصاد کی پاکستان مخالف رپورٹ کو قابلِ تصدیق شواہد سے محروم اور افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔

August 10, 2026

پشتونوں کو نوآبادیاتی قوم قرار دینے کا بیانیہ سیاسی تحریف ہے؛ پاکستان ایک آئینی وفاق ہے جہاں تمام اقوام برابر کی شریک ہیں۔

August 10, 2026

افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی عسکری سامان اور ٹی ٹی پی کی خیبر پختونخوا میں پیش قدمی، خطے کے امن اور سکیورٹی صورتِ حال پر گہرے سوالات اٹھاتی ہے۔

August 10, 2026

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے طالبان کے 5 سالہ اقتدار پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے افغانستان کو معلومات کی جیل قرار دے دیا ہے۔

August 10, 2026

آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے اکثر مطالبات منظور کیے جانے کے بعد، مہاجرین کی نشستوں پر تنازع نے احتجاجی تحریک کو تعطل کا شکار کر دیا ہے۔

August 10, 2026

بارہ برس، تین حکومتیں اور ریکارڈ بجٹ کے باوجود خیبر پختونخوا میں 47 لاکھ بچے اسکول سے باہر، صاف پانی کی سہولت محدود اور صحت کارڈ مالی بحران کا شکار ہے۔

August 10, 2026

اسرائیلی حملے میں حماس کے مرکزی رہنما خلیل الحیہ کا چوتھا بیٹا بھی شہید ہو گیا

خلیل الحیہ کے بیٹوں کی شہادت کا سلسلہ 2008 اور 2014 میں غزہ پر ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے دوران شروع ہوا تھا، جب ان کے دو بیٹے مارے گئے تھے۔ گزشتہ سال قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ایک مبینہ حملے میں ان کا تیسرا بیٹا شہید ہوا
حماس حملوں میں شہید

خلیل الحیہ حماس کی جلاوطن قیادت کے اہم ترین ستون سمجھے جاتے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے اسرائیل کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ ان کے خاندان کو کئی دہائیوں سے اسرائیلی جارحیت کا سامنا ہے۔

May 7, 2026

غزہ سٹی: غزہ پر جاری اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں حماس کے سینیئر رہنما خلیل الحیہ کا چوتھا بیٹا بھی شہید ہو گیا ہے۔ حماس کے عہدیدار باسم نعیم نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ غزہ سٹی میں کیے گئے ایک حملے میں عزام الحیہ جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

خلیل الحیہ حماس کی جلاوطن قیادت کے اہم ترین ستون سمجھے جاتے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے اسرائیل کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ ان کے خاندان کو کئی دہائیوں سے اسرائیلی جارحیت کا سامنا ہے۔ حماس ذرائع کے مطابق، عزام الحیہ سے قبل خلیل الحیہ کے تین اور بیٹے بھی مختلف اسرائیلی حملوں میں شہید ہو چکے ہیں۔

خلیل الحیہ کے بیٹوں کی شہادت کا سلسلہ 2008 اور 2014 میں غزہ پر ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے دوران شروع ہوا تھا، جب ان کے دو بیٹے مارے گئے تھے۔ گزشتہ سال قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ایک مبینہ حملے میں ان کا تیسرا بیٹا شہید ہوا، تاہم خلیل الحیہ خود ان تمام حملوں میں محفوظ رہے۔

غزہ میں جاری حالیہ کشیدگی اور مسلسل فضائی حملوں نے انسانی بحران کو سنگین ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ رہائشی علاقوں اور شہری تنصیبات پر ہونے والے ان حملوں میں اب تک ہزاروں معصوم جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جبکہ حماس کی قیادت اور ان کے اہل خانہ کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی تیز تر ہو گیا ہے۔

دیکھئیے:کابل میں معصوم بچے پر طالبان کا وحشیانہ تشدد: مناظر نے فلسطینی بچوں کے ساتھ اسرائیلی فوج کی سفاکیت کی یاد تازہ کر دی

متعلقہ مضامین

افغان پلیٹ فارم المرصاد کی پاکستان مخالف رپورٹ کو قابلِ تصدیق شواہد سے محروم اور افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔

August 10, 2026

پشتونوں کو نوآبادیاتی قوم قرار دینے کا بیانیہ سیاسی تحریف ہے؛ پاکستان ایک آئینی وفاق ہے جہاں تمام اقوام برابر کی شریک ہیں۔

August 10, 2026

افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی عسکری سامان اور ٹی ٹی پی کی خیبر پختونخوا میں پیش قدمی، خطے کے امن اور سکیورٹی صورتِ حال پر گہرے سوالات اٹھاتی ہے۔

August 10, 2026

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے طالبان کے 5 سالہ اقتدار پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے افغانستان کو معلومات کی جیل قرار دے دیا ہے۔

August 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *