آسٹریلوی حکومت نے پاکستان میں دہشت گردی کی سنگین کاروائیوں میں ملوث تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کے تین سرکردہ رہنماؤں پر انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت سخت مالیاتی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اہم فیصلہ اقوام متحدہ کے چارٹر ایکٹ 1945 کے تحت 8 مئی 2026 کو جاری ہونے والی نئی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
آسٹریلوی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق بی ایل اے کے جن تین مرکزی رہنماؤں کو نامزد کیا گیا ہے ان میں بشیر زیب، حمل ریحان اور جیئند بلوچ شامل ہیں۔ ان پابندیوں کا فوری مقصد دہشت گرد تنظیم کی مالیاتی رسائی کو مکمل طور پر مسدود کرنا، ان کی آپریشنل صلاحیتوں میں خلل ڈالنا اور شدت پسند سرگرمیوں کے لیے کی جانے والی فنڈنگ کو روکنا ہے۔
Breaking News: Australia Sanctions BLA, Three Leaders Over Terror Financing
— Mahaz (@MahazOfficial1) May 8, 2026
The Australian Government has imposed counter-terrorism financing sanctions on the terrorist group Balochistan Liberation Army (BLA) and three of its senior leaders over involvement in terrorist attacks…
آسٹریلوی حکام نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ بی ایل اے پاکستان میں شہریوں، اہم قومی تنصیبات، غیر ملکی باشندوں اور ریاستی اداروں پر ہونے والے متعدد پرتشدد حملوں کی ذمہ دار ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ آسٹریلیا دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف اپنے عالمی عزم پر سختی سے قائم ہے اور یہ اقدام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ دہشت گردوں کی بھرتیوں اور ان کے انتہا پسند نظریات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
آسٹریلوی قانون کے مطابق ان نامزد افراد یا تنظیم کے کسی بھی قسم کے اثاثے استعمال کرنے، انہیں مالی وسائل فراہم کرنے یا کسی بھی طرح کی معاشی مدد پہنچانے کو سنگین جرم تصور کیا جائے گا۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کو بھاری جرمانوں کے ساتھ ساتھ 10 سال تک قید کی سخت سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دفاعی ماہرین اس فیصلے کو پاکستان کے اس بیانیے کی عالمی سطح پر تائید قرار دے رہے ہیں کہ بی ایل اے ایک دہشت گرد گروہ ہے جو خطے کے امن و استحکام کے لیے مستقل خطرہ بنا ہوا ہے۔
دیکھیے: افغانستان میں علماء کے قتل پر خاموشی برقرار، طالبان کے سکیورٹی دعوے بے نقاب