بلوچستان میں انڈیا کے خلاف پائے جانے والے شدید جذبات کی بڑی وجہ بھارت کی جانب سے صوبے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی مسلسل کوششیں ہیں۔ ‘آپریشن بنیان مرصوص’ کی کامیابی نے نہ صرف دفاعی بلکہ نفسیاتی محاذ پر بھی بھارت کو شکستِ فاش دی، جس کے نتیجے میں آج بلوچستان کا بچہ بچہ اپنی ریاست کے بیانیے کے ساتھ کھڑا ہے۔

May 8, 2026

قطر نے امریکہ سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ کیمپ میں موجود افراد کی قانونی حیثیت کا جلد فیصلہ کیا جائے اور مستقبل میں مزید کسی افغان مہاجر کو قطر نہ بھیجا جائے۔

May 8, 2026

عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ اس عمل سے جموں و کشمیر کے عوام کو شدید نقصان پہنچا ہے کیونکہ حلقہ بندیوں کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا کہ بی جے پی کو انتخابی برتری حاصل ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی رہنماؤں کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اقتدار پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔

May 8, 2026

اس مشترکہ کارروائی کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان سرحدی انتظام کو بہتر بنانا اور کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی خطرے سے نمٹنے کے لیے آپریشنل تال میل کو بڑھانا ہے۔

May 8, 2026

اس اہم فیصلے کے پیچھے قطر کی جانب سے ملنے والے مثبت اشارے بتائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر سے طویل مدتی معاہدوں کے تحت گیس کی فراہمی اسپاٹ مارکیٹ کی قیمتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر سستی ہوگی۔

May 8, 2026

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام روایتی فن پارہ سرپرستی کے بجائے ‘ثقافتی اثر و رسوخ کی خریداری’ کے مترادف ہے، جس نے اس باوقار تقریب کے معیار اور شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

May 8, 2026

بی جے پی نے مقبوضہ کشمیر میں حد بندی کو سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کیا: وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کا انکشاف

عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ اس عمل سے جموں و کشمیر کے عوام کو شدید نقصان پہنچا ہے کیونکہ حلقہ بندیوں کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا کہ بی جے پی کو انتخابی برتری حاصل ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی رہنماؤں کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اقتدار پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔
عمر عبداللہ کا بیان

د بندی کا عمل خالصتاً بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو سیاسی فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا۔ سری نگر میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مشق نے بی جے پی کے اصل سیاسی عزائم کو بے نقاب کر دیا ہے۔

May 8, 2026

سری نگر: مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں حد بندی کا عمل خالصتاً بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو سیاسی فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا۔ سری نگر میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مشق نے بی جے پی کے اصل سیاسی عزائم کو بے نقاب کر دیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، بھارتی حکومت نے ستمبر اور اکتوبر 2024 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل نئی حد بندی کروائی تھی۔ عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ اس عمل سے جموں و کشمیر کے عوام کو شدید نقصان پہنچا ہے کیونکہ حلقہ بندیوں کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا کہ بی جے پی کو انتخابی برتری حاصل ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی رہنماؤں کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اقتدار پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ نے اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سنیل کمار شرما کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر وزارتِ اعلیٰ کی کرسی حاصل کرنے کے لیے بے چین ہیں اور اسی مقصد کے لیے ‘بلیک میلنگ’ کی سیاست کر رہے ہیں۔ عمر عبداللہ نے مزید الزام لگایا کہ بی جے پی جان بوجھ کر ان کی حکومت کے کام میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے اور ریاست کی بحالی کے عمل میں تاخیر کی جا رہی ہے۔

عمر عبداللہ نے عوام کو خبردار کیا کہ اپوزیشن کی قیادت یہ تاثر دے رہی ہے کہ جب تک بی جے پی کی حکومت نہیں بنے گی، تب تک نہ تو نظام کو درست طریقے سے چلنے دیا جائے گا اور نہ ہی ریاست کا درجہ بحال ہوگا ک۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو بحالیِ ریاست کے نام پر ڈرایا اور دھمکایا جا رہا ہے، جو کہ جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔

دیکھئیے:ایک بھائی کی میت کا انتظار، دوسرا مبینہ جعلی مقابلے میں شہید؛ مقبوضہ کشمیر کا مغل خاندان بھارتی جبر کا شکار

متعلقہ مضامین

بلوچستان میں انڈیا کے خلاف پائے جانے والے شدید جذبات کی بڑی وجہ بھارت کی جانب سے صوبے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی مسلسل کوششیں ہیں۔ ‘آپریشن بنیان مرصوص’ کی کامیابی نے نہ صرف دفاعی بلکہ نفسیاتی محاذ پر بھی بھارت کو شکستِ فاش دی، جس کے نتیجے میں آج بلوچستان کا بچہ بچہ اپنی ریاست کے بیانیے کے ساتھ کھڑا ہے۔

May 8, 2026

قطر نے امریکہ سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ کیمپ میں موجود افراد کی قانونی حیثیت کا جلد فیصلہ کیا جائے اور مستقبل میں مزید کسی افغان مہاجر کو قطر نہ بھیجا جائے۔

May 8, 2026

اس مشترکہ کارروائی کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان سرحدی انتظام کو بہتر بنانا اور کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی خطرے سے نمٹنے کے لیے آپریشنل تال میل کو بڑھانا ہے۔

May 8, 2026

اس اہم فیصلے کے پیچھے قطر کی جانب سے ملنے والے مثبت اشارے بتائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر سے طویل مدتی معاہدوں کے تحت گیس کی فراہمی اسپاٹ مارکیٹ کی قیمتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر سستی ہوگی۔

May 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *