سری نگر: مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں حد بندی کا عمل خالصتاً بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو سیاسی فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا۔ سری نگر میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مشق نے بی جے پی کے اصل سیاسی عزائم کو بے نقاب کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، بھارتی حکومت نے ستمبر اور اکتوبر 2024 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل نئی حد بندی کروائی تھی۔ عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ اس عمل سے جموں و کشمیر کے عوام کو شدید نقصان پہنچا ہے کیونکہ حلقہ بندیوں کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا کہ بی جے پی کو انتخابی برتری حاصل ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی رہنماؤں کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اقتدار پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سنیل کمار شرما کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر وزارتِ اعلیٰ کی کرسی حاصل کرنے کے لیے بے چین ہیں اور اسی مقصد کے لیے ‘بلیک میلنگ’ کی سیاست کر رہے ہیں۔ عمر عبداللہ نے مزید الزام لگایا کہ بی جے پی جان بوجھ کر ان کی حکومت کے کام میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے اور ریاست کی بحالی کے عمل میں تاخیر کی جا رہی ہے۔
عمر عبداللہ نے عوام کو خبردار کیا کہ اپوزیشن کی قیادت یہ تاثر دے رہی ہے کہ جب تک بی جے پی کی حکومت نہیں بنے گی، تب تک نہ تو نظام کو درست طریقے سے چلنے دیا جائے گا اور نہ ہی ریاست کا درجہ بحال ہوگا ک۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو بحالیِ ریاست کے نام پر ڈرایا اور دھمکایا جا رہا ہے، جو کہ جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔