مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع گاندربل کے گاؤں چنٹ والیوار سے تعلق رکھنے والے مغل خاندان کی کہانی کشمیر کے اس المیے کی عکاسی کرتی ہے جہاں خاندان در خاندان بھارتی جبر اور تشدد کی چکی میں پس رہے ہیں۔ 29 اپریل 2026 کو الجزیرہ کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ کے مطابق اس خاندان کے دو بھائیوں کی زندگیوں کا چراغ 26 سال کے فرق سے گل کیا گیا، جس نے خاندان کو کبھی نہ ختم ہونے والے کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔
اشفاق احمد مغل کی شہادت
جنوری 2000 کی ایک سرد رات کو مسلح افراد نے مغل خاندان کے گھر پر دھاوا بولا اور 23 سالہ اشفاق احمد مغل کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔ اہل خانہ کے مطابق حملہ آور اشفاق کی میت بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ گزشتہ 26 برسوں سے اس کے بہن بھائی اپنے بھائی کی باقیات کے منتظر ہیں تاکہ اسلامی روایات کے مطابق اس کی تدفین کر سکیں، لیکن بھارتی حکام اور نامعلوم حالات نے انہیں یہ حق بھی فراہم نہیں کیا۔
راشد احمد مغل کا جعلی مقابلہ
ابھی اشفاق کا زخم تازہ تھا کہ 31 مارچ 2026 کو بھارتی فوج نے اس کے چھوٹے بھائی 32 سالہ راشد احمد مغل کو ایک مبینہ مقابلے میں شہید کر دیا۔ بھارتی فوج نے دعویٰ کیا کہ راشد ایک ‘دہشت گرد’ تھا اور اسے انٹیلیجنس معلومات پر مبنی آپریشن کے دوران مارا گیا، تاہم مقامی آبادی اور اہل خانہ نے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ راشد اپنے گاؤں کا واحد گریجویٹ نوجوان تھا اور اسے ایک ‘جعلی مقابلے’ میں نشانہ بنایا گیا۔
بھارتی جبر کا مظاہرہ یہاں ختم نہیں ہوا؛ راشد کی میت کو اس کے آبائی علاقے سے 80 کلومیٹر دور کپواڑہ کے ایک گمنام قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا تاکہ عوامی احتجاج سے بچا جا سکے۔ صرف ایک بھائی، اعجاز احمد مغل کو جنازے میں شرکت کی اجازت دی گئی،
گجر برادری پر بڑھتا ہوا دباؤ
مغل خاندان کا تعلق گجر برادری سے ہے، جسے 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2019 کے بعد سے اب تک کم از کم 11 گجر نوجوان مبینہ جعلی مقابلوں میں مارے جا چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ‘افسپا’ جیسے سیاہ قوانین بھارتی فورسز کو ایسا قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا احتساب ناممکن ہو جاتا ہے۔ مغل خاندان اب بھی اپنے پیاروں کے انصاف اور ان کی باقیات کی واپسی کا منتظر ہے تاکہ انہیں اپنے آبائی قبرستان میں دفن کر سکے۔