واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے جمعہ کے روز ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے نامعلوم اڑنے والی اشیا المعروف اڑن طشتریوں سے متعلق دہائیوں سے خفیہ رکھی گئی دستاویزات کا پہلا بڑا مجموعہ جاری کر دیا ہے۔ ان فائلوں میں سنہ 1940 کی دہائی سے لے کر حالیہ برسوں تک کی ایسی رپورٹس شامل ہیں جو اب تک قومی سلامتی کے نام پر عوامی رسائی سے دور رکھی گئی تھیں۔ امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ان فائلوں کو چھپانے کی وجہ سے عوام میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں جنم لیتی رہیں، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ عوام خود ان حقائق کا مشاہدہ کریں۔
دستاویزات کے اس مجموعے میں 160 سے زائد فائلیں شامل ہیں، جنہیں پینٹاگون باضابطہ طور پر ’نامعلوم غیر معمولی مظاہر‘ (یو اے پیز) قرار دیتا ہے۔ ان میں دسمبر 1947 کی ایک رپورٹ شامل ہے جس میں ’اڑنے والی ڈسکس‘ کا ذکر ہے، جبکہ 1948 کی ایک انتہائی خفیہ فضائیہ انٹیلی جنس رپورٹ میں ’فلائنگ ساسرز‘ کو دیکھے جانے کے دعوؤں کی تفصیل موجود ہے۔ یہ فائلیں اس دور کے دفاعی خدشات اور ان پراسرار اشیا کی نگرانی سے متعلق امریکی حکام کی سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہیں۔

ان فائلوں کا اجرا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ان خصوصی ہدایات کا نتیجہ ہے جو انہوں نے فروری میں وفاقی اداروں کو جاری کی تھیں تاکہ یو ایف اوز اور خلائی مخلوق سے متعلق سرکاری فائلوں کو عوام کے لیے کھولا جا سکے۔ صدر ٹرمپ کا موقف تھا کہ عوام کی غیر معمولی دلچسپی کے باعث ان معلومات کی فراہمی ضروری ہے۔ انہوں نے سابق صدر براک اوباما کے بیانات کا بھی حوالہ دیا جنہوں نے ایک موقع پر ماورائے زمین زندگی سے متعلق کچھ حقائق کے حقیقی ہونے کا اشارہ دیا تھا۔
دستاویزات میں حالیہ برسوں کے واقعات بھی درج ہیں، جن میں سنہ 2023 کا ایک واقعہ قابلِ ذکر ہے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے آسمان پر نارنجی رنگ کے بڑے گول دائروں سے سرخ گولے نکلتے ہوئے دیکھے۔ تاہم، ان تمام لرزہ خیز دعوؤں کے باوجود پینٹاگون کا مؤقف ہے کہ اب تک زمین سے باہر کسی ذہین مخلوق یا خلائی ٹیکنالوجی کے وجود کا کوئی ناقابلِ تردید سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، یو ایف اوز میں عوامی دلچسپی حالیہ برسوں میں اس وقت بڑھی جب امریکی حکومت نے ان پراسرار فضائی مشاہدات کی تحقیقات شروع کیں۔ پینٹاگون کی حالیہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ کئی مشتبہ واقعات بعد میں موسمی غباروں، جاسوس طیاروں یا سیٹلائٹس کی معمول کی سرگرمیاں نکلے۔ اگرچہ نئی فائلوں نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے، لیکن حکومت کا حتمی نتیجہ یہی ہے کہ اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جو ماورائے زمین مخلوق کے وجود کی تصدیق کر سکے۔
دیکھئیے:خلائی تحقیق میں پاکستان کی بڑی اڑان، 2 پاکستانی خلاباز چینی مشن کے لیے منتخب