بیجنگ: چین رواں ماہ عالمی سیاست کا مرکز بننے جا رہا ہے جہاں چینی صدر شی جن پنگ عالمی قیادت کے ساتھ اہم ترین ملاقاتوں کی میزبانی کریں گے۔ مئی کے آخری دو ہفتوں کے دوران بیجنگ میں ہونے والی ان سفارتی بیٹھکوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، روسی صدر ولادی میر پوٹن اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی آمد متوقع ہے، جس کا مقصد عالمی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال پر قابو پانا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی چین جائے گا، جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور دیگر وفاقی وزرا شامل ہوں گے۔ اس دورے کے دوران جہاں سی پیک اور دوطرفہ اقتصادی تعاون پر بات ہوگی، وہیں علاقائی سیکیورٹی اور ایران کے خلاف حالیہ کشیدگی پر بھی تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چین خطے میں بڑھتے ہوئے بحران کے حل کے لیے اپنے سفارتی کردار کو مزید فعال بنا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے بیجنگ پہنچیں گے، جہاں ان کی توجہ تجارت اور اقتصادی تعلقات پر مرکوز ہوگی، تاہم عالمی ماہرین کا خیال ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور ایران کے معاملے پر بھی چینی قیادت کے ساتھ اہم پیش رفت متوقع ہے۔ ان ملاقاتوں کو عالمی سیاست میں ‘بڑی سفارتی بیٹھک’ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس میں دنیا کی تین بڑی قوتیں اور اہم علاقائی شراکت دار ایک ہی وقت میں بیجنگ میں موجود ہوں گے۔
روسی صدر ولادی میر پوٹن کی آمد بھی اس سلسلے کی اہم کڑی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اب عالمی تنازعات کے حل کے لیے ایک مرکزی ‘پاور بروکر’ کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ان ملاقاتوں کے نتائج نہ صرف پاک چین تعلقات بلکہ عالمی اقتصادیات اور مشرقِ وسطیٰ کے امن پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔