صرف سال 2025 کے ابتدائی مہینوں میں اب تک 34 سے زائد صحافیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ طالبان دورِ حکومت میں جبر و استبداد کی لہر میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اگست 2021 سے اب تک سینکڑوں میڈیا ورکرز کو “پروپیگنڈا”، “غیر ملکی روابط” اور “اخلاقی کرپشن” جیسے مبہم الزامات کے تحت قید کیا جا چکا ہے

May 10, 2026

طورخم سے پشاور تک ٹرکوں کی قطاریں دراصل واپسی کے عمل کی شفافیت اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کی وجہ سے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ہر جانے والے فرد کی بائیو میٹرک تصدیق اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔

May 10, 2026

دونوں وزرائے اعظم نے علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی مشاورت کا عمل جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ قطر کے ساتھ مضبوط شراکت داری کو مزید وسعت دینا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے اور وہ دوطرفہ تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہیں۔

May 10, 2026

حالیہ اضافے کے بعد جیٹ فیول کی نئی قیمت بڑھ کر 441 روپے 66 پیسے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ معاشی ماہرین اور ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اس قدر بڑے اضافے سے ایئرلائنز کے آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا

May 10, 2026

آج بھی جب دشمن کے تباہ ہونے والے غرور، رافیل طیاروں کی ناکامی اور پاکستانی شاہینوں کی کامیاب حکمتِ عملی کا ذکر ہوتا ہے تو دل خوشی اور فخر سے بھر جاتا ہے۔ پوری قوم اپنے شاہینوں کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔

May 10, 2026

سانحہ 9 مئی کی تیسری برسی پر اور معرکہ حق کے پہلے جشن 10 مئی کے موقع پر یاد آتا ہے کہ مارٹن لوتھر کنگ نے کہا تھا کہ کوئی شخص تمہاری پیٹھ پر سوار نہیں ہوسکتا جب تک وہ جھکی ہوئی نہ ہو۔

May 10, 2026

نو مئی سے پہلے 10 مئی کے بعد

سانحہ 9 مئی کی تیسری برسی پر اور معرکہ حق کے پہلے جشن 10 مئی کے موقع پر یاد آتا ہے کہ مارٹن لوتھر کنگ نے کہا تھا کہ کوئی شخص تمہاری پیٹھ پر سوار نہیں ہوسکتا جب تک وہ جھکی ہوئی نہ ہو۔
نو مئی سے پہلے 10 مئی کے بعد

آئین و قانون کے مطابق تحریک عدم اعتماد جمع ہو جائے تو اسپیکر 2 ہفتوں میں اجلاس بلانے کے پابند ہیں، قانون کے مطابق قرارداد پیش ہونے کے بعد تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 3 دن سے قبل اور 7 دن کے بعد نہیں ہوسکتی۔

May 10, 2026

سانحہ 9 مئی کی تیسری برسی پر وہ کہاوت سچ ہو چکی کہ ’ماچس کی تیلی کا سر ہوتا ہے لیکن اس میں دماغ نہیں ہوتا‘۔

ماضی قریب کی بات ہے جب 8 مارچ 2022 کو حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں (پی ڈی ایم) نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور آئین کے آرٹیکل 54 تھری کے تحت قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی تھی۔ قائدِ حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا تھا کہ عمران خان نے گزشتہ 4 برس میں معاشی اور سماجی لحاظ سے ملک کے ساتھ جو کچھ کیا اس بدحالی کی نظیر نہیں ملتی۔ ادھر ’عمرانی حکومت‘نے حزب اختلاف پر بین الاقوامی سازش کا حصہ ہونے کا الزام لگایا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے میلسی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں تحریک عدم اعتماد کے لیے تیار ہوں، کیا اپوزیشن اس کے لیے تیار ہے کہ عدم اعتماد ناکام ہوئی تو میں ان کے ساتھ کیا کروں گا؟

آئین و قانون کے مطابق تحریک عدم اعتماد جمع ہو جائے تو اسپیکر 2 ہفتوں میں اجلاس بلانے کے پابند ہیں، قانون کے مطابق قرارداد پیش ہونے کے بعد تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 3 دن سے قبل اور 7 دن کے بعد نہیں ہوسکتی۔

آئین کی شق 58 کے تحت قومی اسمبلی کے 172 ارکان عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دیں تو وزیراعظم کو عہدہ چھوڑنا پڑتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مخلوط حکومت کے پاس 176 ارکان تھے، جب کہ حزب اختلاف کے ارکان کی تعداد 162 تھی۔ لیکن اس بار بھی وہی ہوا جو اس سے قبل ’ضمیر کی آواز‘ پر چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں ہوچکا تھا۔

طَوعاً و کَرہاً 22 مارچ کا اجلاس 25 مارچ کو بلایا گیا جو اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے مرحوم اراکین کے لیے دعائے مغفرت کے بعد فوری طور پر 28 مارچ 2022 تک ملتوی کردیا۔

28 مارچ کو تحریک پیش کرنے کے حق میں 161 ووٹ پڑے، قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے تحریک عدم اعتماد پیش کی تو ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اجلاس 31 مارچ کی شام 4 بجے تک ملتوی کردیا۔

31 مارچ کو تحریک عدم اعتماد پر بحث کے لیے اجلاس شروع ہوا تو چند ہی منٹوں میں 3 اپریل کو دن ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ پھر 3 اپریل کو ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے تحریک عدم اعتماد کو بیرونی سازش قرار دیتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت مسترد کردیا۔ چند ہی منٹوں میں منصوبے کے عین مطابق صدرعارف علوی نے وزیراعظم کی تجویز پر قومی اسمبلی تحلیل کردی۔ اس پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا۔

7 اپریل کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے متفقہ فیصلے میں ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے تحریک عدم اعتماد مسترد کیے جانے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسمبلیاں بحال کرنے اور عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس 9 اپریل کو طلب کرنے کا حکم سنایا تھا۔

9 اپریل کو بھی سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہیں کرائی گئی بلکہ رات گئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیدیا۔ پھر ایاز صادق نے پینل آف چیئرمین کی حیثیت سے اجلاس کی کارروائی جاری رکھی۔ اجلاس 10 اپریل کی صبح 12 بج کر 2 منٹ پر ملتوی کردیا گیا۔ تاہم کچھ دیر بعد نئے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد 174 ووٹوں سے منظور کرلی گئی اور عمران خان ایوان کا اعتماد کھو بیٹھے۔

11 اپریل 2022 کو نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ اپوزیشن کی جانب سے شہباز شریف اور تحریک انصاف کی جانب سے شاہ محمود قریشی وزیراعظم کے امیدوار تھے تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے بائیکاٹ کے بعد شہباز شریف 174 ووٹ لیکر پاکستان کے 23 ویں وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔

قبل ازیں 8 اپریل 2022 بروز جمعہ کو عمران خان نے بطور وزیراعظم اپنی آخری تقریر میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے اور ورکرز سڑکوں پر نکلنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ آپ سب نے اتوار کو عشاء کے بعد نکلنا ہے اور پرامن احتجاج کرنا ہے، یہ آپ کا فرض ہے کہ آپ نے غلامی قبول نہیں کرنی۔

13 اپریل 2022 کو پشاور میں وزارتِ عظمیٰ سے محرومی کے بعد پہلے جلسہ عام میں کہا تھا پوری قوم اتوار کو باہر نکلی۔ امپورٹیڈ حکومت نامنظور، ہم کسی بیغیرت حکومت کو نہیں مانتے۔ غیرت مند عوام کو بیغیرتوں کے خلاف کھڑا کروں گا۔ جس دن کال دیدی تمہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ یہ 1970 کا پاکستان نہیں جب میر جعفروں نے بھٹو کو پھانسی لگائی تھی۔ حقیقی آزادی کی جنگ آج سے شروع ہے، میں خطرناک ثابت ہوں گا۔

پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا لہجے کی تلخی اور اقتدار سے دوری نے وہ وقت بھی دکھایا جب جرنیلوں کو غدار اور میر جعفر تک کہا گیا۔ چڑیا گھر سے آنے والی کالز کے تذکرے اور مسٹر ایکس اور وائے کے کردار بھی گھڑے گئے۔ زمان پارک میں بیٹھ کر جیل بھرو تحریک چلائی گئی، لانگ مارچ کا ڈول بھی ڈالا گیا۔ فوجی افسران کو ڈرٹی ہیری کہا گیا۔ پارٹی رہنماؤں سے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی بھی کرائی گئی۔ 8 ہزار 333 ڈالر ماہانہ پر امریکا میں لابنگ فرم کی خدمات بھی لی گئیں۔

پیشیوں پر عدالتوں پر یلغار بھی کی گئی۔ زمان پارک کے باہر ورکرز کی انسانی ڈھال بھی بنائی گئی، آئی جی اور جج صاحبان کو دھمکیاں بھی دی گئیں۔ گرفتاری کی صورت میں پارٹی کو فوری ردِعمل کا پلان بھی دیا جس کے تحت سانحہ 9 مئی بَپا کیا گیا پھر باقی سب تاریخ ہے۔

ٹکر والے لوگ اور ’خان ہماری ریڈلائن‘ والے کچھ ملک چھوڑ گئے اور کچھ سیاست، اور کچھ سُورما تاحال روپوش ہیں۔ عبرتناک کڑی سزائیں نہ ملنے پر ریاستی اداروں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کی متعدد سادہ اور ’فائنل‘ کالز بھی دی گئیں جو شاید دی جاتی رہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پوراپنے عہد وزارت میں کہا کرتے تھے کہ عمران خان کو مزید قید رکھنا اب کسی کے بس میں نہیں۔ کوئی طاقت ہمیں بانی پی ٹی آئی سے دور نہیں کرسکتی، ادارے بھی سن لیں مائنس عمران خان تمہارا باپ بھی نہیں کرسکتا۔ اگر ہمیں حق نہ ملا تو ہم اسلام آباد پر قبضہ کریں گے، خیبر پختونخوا نکلے گا اور بانی پی ٹی آئی کو رہا کروا کر ہی جائے گا ۔ ۔ ۔ اب ان کی کرسی پر سہیل آفریدی آرام فرما ہیں۔

9 مئی سے 10 مئی تک کے سفر میں نہلے پہ دہلا یہ ہے کہ ریاست مدینہ اور نئے پاکستان کا فریب کھاتے سادہ دل تماشائی بھی حقیقت کی دنیا میں لوٹ آئے ہیں اور معرکہ حق کی فتح کا جشن منا رہے ہیں۔

سانحہ 9 مئی کی تیسری برسی پر اور معرکہ حق کے پہلے جشن 10 مئی کے موقع پر یاد آتا ہے کہ مارٹن لوتھر کنگ نے کہا تھا کہ کوئی شخص تمہاری پیٹھ پر سوار نہیں ہوسکتا جب تک وہ جھکی ہوئی نہ ہو۔

نوٹ: یہ آرٹیکل مشکور علی نے وی نیوز اردو کیلئے لکھا۔ کاپی رائٹ حقوق وی نیوز محفوظ رکھتا ہے۔

متعلقہ مضامین

صرف سال 2025 کے ابتدائی مہینوں میں اب تک 34 سے زائد صحافیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ طالبان دورِ حکومت میں جبر و استبداد کی لہر میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اگست 2021 سے اب تک سینکڑوں میڈیا ورکرز کو “پروپیگنڈا”، “غیر ملکی روابط” اور “اخلاقی کرپشن” جیسے مبہم الزامات کے تحت قید کیا جا چکا ہے

May 10, 2026

طورخم سے پشاور تک ٹرکوں کی قطاریں دراصل واپسی کے عمل کی شفافیت اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کی وجہ سے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ہر جانے والے فرد کی بائیو میٹرک تصدیق اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔

May 10, 2026

دونوں وزرائے اعظم نے علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی مشاورت کا عمل جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ قطر کے ساتھ مضبوط شراکت داری کو مزید وسعت دینا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے اور وہ دوطرفہ تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہیں۔

May 10, 2026

حالیہ اضافے کے بعد جیٹ فیول کی نئی قیمت بڑھ کر 441 روپے 66 پیسے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ معاشی ماہرین اور ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اس قدر بڑے اضافے سے ایئرلائنز کے آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا

May 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *