بلوچستان میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک انتہائی اہم اور پیشہ ورانہ انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے ذریعے کم عمر لڑکی خیرالنساء کو دہشت گرد گروہ بی ایل اے (فتنہ الہندستان) کے چنگل سے کامیابی کے ساتھ بازیاب کرا لیا ہے۔ اس کارروائی کے ذریعے نہ صرف ایک معصوم جان بچائی گئی بلکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے ایک بڑے ممکنہ خودکش حملے کو بھی جڑ سے اکھاڑ دیا گیا۔
لرزہ خیز انکشافات
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران بازیاب ہونے والی لڑکی خیرالنسا کو میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تربت سے تعلق رکھنے والی اس کم عمر لڑکی کو دہشت گرد نیٹ ورک نے ذہنی دباؤ، بلیک میلنگ اور انتہا پسندی کے ذریعے اسلام آباد میں خودکش حملے کے لیے تیار کر رکھا تھا۔
وزیراعلیٰ نے انکشاف کیا کہ تحقیقات کے مطابق دہشت گرد نیٹ ورک متاثرہ لڑکی اور اس کے خاندان کو مسلسل دھمکانے اور جذباتی دباؤ میں رکھنے کے حربے استعمال کرتا رہا تاکہ اسے اس خودکش مشن پر مجبور کیا جا سکے۔
دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں
حکام کے مطابق بلوچستان میں سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف مسلسل مؤثر کاروائیاں کر رہی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں بروقت اقدامات کے باعث متعدد دہشت گرد منصوبے ناکام بنائے گئے ہیں، جن کے دوران اب تک 216 دہشت گردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا چکا ہے۔
اپنی آپریشنل ناکامیوں کے بعد، فتنہ الہندستان (بی ایل اے) اب پروپیگنڈا اور غلط معلومات کے ذریعے نوجوانوں، خصوصاً خواتین کو نشانہ بنا رہا ہے۔
بھارتی روابط
سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ سوشل میڈیا پر ایک منظم پروپیگنڈا مہم جاری ہے جس میں بیرونِ ملک مقیم عناصر، بعض ڈائسپورا نیٹ ورکس اور براہِ راست بھارت سے منسلک اکاؤنٹس شامل ہیں۔ یہ عناصر انتہا پسندانہ بیانیے کو ہوا دے کر بلوچستان کے پرامن عوام کو ریاست کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ بھارت سے منسلک یہ پراکسی نیٹ ورکس معصوم بلوچ بچیوں کا استحصال کر کے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کی تگ و دو میں ہیں۔
انسانیت کی جیت اور ریاستی عزم
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ خیرالنسا کو محفوظ طور پر بازیاب کرانے کے بعد اب اسے اس کے والد کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے عوام پرامن ہیں اور انہیں چند انتہا پسندوں کی سرگرمیوں سے جوڑنا قطعی درست نہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ خواتین اور بچوں کے استحصال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف یہ کارروائیاں ہر سطح پر جاری رہیں گی۔
آخر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا گیا جس کی بدولت ملک ایک بڑے سانحے سے محفوظ رہا اور ایک معصوم بچی دوبارہ اپنے گھر پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔