اسلام آباد: پاکستان اور چین کے مابین منعقدہ حالیہ تجارتی کانفرنس کے دوران بیٹری اسٹوریج کے شعبے میں 82 ملین ڈالر کے اہم معاہدے طے پا گئے ہیں۔ اس کانفرنس میں 74 چینی کمپنیوں کے 105 نمائندوں اور مختلف صنعتی و تجارتی شعبوں سے تعلق رکھنے والی 136 پاکستانی کمپنیوں کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔ اس تقریب کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے مابین صنعتی تعاون کو مستحکم کرنا اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کے عمل کو تیز کرنا تھا۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے کانفرنس کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس ایونٹ کے دوران دونوں ممالک کی کمپنیوں کے مابین 40 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چینی اور پاکستانی کاروباری اداروں کے درمیان ہونے والی یہ ملاقاتیں پاکستان میں صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ ان معاہدوں سے نہ صرف توانائی کے شعبے میں بہتری آئے گی بلکہ پاکستان کو اپنی مصنوعات وسطی ایشیا اور دیگر علاقائی منڈیوں تک پہنچانے میں بھی مدد ملے گی۔
ہارون اختر خان نے مزید انکشاف کیا کہ کانفرنس کے دوران ہونے والی بات چیت میں چینی سرمایہ کاروں نے پاکستان کے الیکٹرک وہیکل سیکٹر میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ چینی کمپنیوں کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کرنا پاکستان کے گرین انرجی کے اہداف کے حصول میں سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بیٹری اسٹوریج اور الیکٹرک گاڑیوں جیسے جدید شعبوں میں چین کے ساتھ یہ تعاون پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اسے علاقائی تجارتی مرکز بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔
دیکھئیے:بیجنگ میں بڑی سفارتی بیٹھک: صدر شی جن پنگ رواں ماہ ٹرمپ، پوٹن اور شہباز شریف سے اہم ملاقاتیں کریں گے