اسلام آباد: وفاقی وزارت برائے سمندری امور نے وسطی ایشیا، افغانستان اور عالمی منڈیوں کے ساتھ تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے گوادر پورٹ کے ٹیرف میں بڑے پیمانے پر کمی کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ پیر کے روز جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، نئی ٹیرف پالیسی کا مقصد ٹرانزٹ اور شپنگ کی سرگرمیوں کو تیز کر کے گوادر بندرگاہ کی بین الاقوامی مسابقت کو بڑھانا ہے۔ وزارت نے واضح کیا ہے کہ کنٹینر بردار بحری جہازوں اور ٹرانزٹ کارگو لانے والے جہازوں کی برتھنگ فیس میں 25 فیصد کمی کر دی گئی ہے، جبکہ بین الاقوامی ٹرانزشپمنٹ کنٹینر کارگو پر پورٹ چارجز میں 40 فیصد کی نمایاں کٹوتی کی گئی ہے۔
نئے ٹیرف ڈھانچے کے تحت ٹرانزٹ کنٹینر کارگو پر چارجز میں بھی 31 فیصد کمی کی گئی ہے، جو کہ فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے۔ وزارتِ سمندری امور نے مزید کہا کہ جنرل کارگو کے لیے ایک ماہ کی مفت اسٹوریج کی سہولت بھی بطور ترغیب متعارف کرائی گئی ہے، جو کہ دیگر قومی بندرگاہوں پر عام طور پر دی جانے والی پانچ دن کی رعایت کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ وفاقی وزیر برائے سمندری امور جنید انور چوہدری کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا اصل مقصد گہرے سمندر کی اس بندرگاہ کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں اور بین الاقوامی شپنگ ٹریفک میں اضافہ کرنا اور گوادر کو خطے کے تجارتی نقشے پر ایک ناگزیر گیٹ وے کے طور پر ممتاز کرنا ہے۔
وزارت کے مطابق گوادر پورٹ آپریشنل اخراجات میں کمی، بھیڑ بھاڑ سے پاک گہرے سمندر کے ماحول اور وسطی ایشیا، افغانستان اور مشرق وسطیٰ تک اپنی اسٹریٹجک رسائی کی وجہ سے عالمی تاجروں کے لیے ایک بہترین انتخاب ثابت ہوگی۔ ان مراعات سے نہ صرف پاکستان کی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ گوادر بندرگاہ عالمی سپلائی چین میں ایک کلیدی مرکز کے طور پر ابھرے گی۔ حکومت کو توقع ہے کہ ان تجارتی مراعات کے نتیجے میں گوادر میں بحری جہازوں کی آمد و رفت میں غیر معمولی تیزی آئے گی، جس سے وسطی ایشیائی ممالک کے لیے ٹرانزٹ ٹریڈ کی لاگت میں کمی آئے گی اور مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔